کورونا وبا؛ ملک میں 29465 مصدقہ مریض،جانبحق افراد کی تعداد 639 تک جاپہنچی

 اسلام آباد: 

ملک بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 29465 تک جاپہنچی ہے جن میں سے 639 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 13 ہزار 441 ٹیسٹ کئے گئے جب کہ 1991 مریضوں میں اس کی تصدیق ہوئی ہے۔ جس کے بعد کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 29 ہزار 465 تک جا پہنچی ہے۔

کہاں کتنے مریض

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 29465 تک جاپہنچی ہے، پنجاب میں 11 ہزار 93، سندھ میں 10 ہزار 771، خیبر پختونخوا میں 4 ہزار 509، بلوچستان میں ایک ہزار 935 ، اسلام آباد میں 641 ، گلگت بلتستان میں 430 اور آزاد کشمیر میں 86 افراد میں اس کی تصدیق ہوئی ہے۔ کورونا وائرس سے متاثرہ 8 ہزار 23 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔

639 افراد جاں بحق

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 21 افراد کورونا کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئے جب کہ 155 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے سب سے زیادہ 234 مریض خیبر پختونخوا میں جاں بحق ہوئے ہیں، اس کے علاوہ پنجاب میں 192، سندھ میں 180، بلوچستان 24، اسلام آباد 5 اور گلگت بلتستان میں کورونا سے 4 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر:

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔