پنجاب: کپاس کی امدادی قیمت مقرر نہ ہونے اور زائد اخراجات کے سبب کاشتکاروں کی عدم دلچسپی

(آئی این این نیوز)
رپورٹ: اقبال چوہدری

لاہور:  محکمہ زراعت نے پنجاب میں کپاس کی کاشت کا ہدف پچاس لاکھ ایکڑ رقبہ مقرر کیا ہے لیکن کپاس کی امدادی قیمت مقرر نہ ہونے اور فصل پر اخراجات زیادہ ہونے کے باعث کپاس کاشتکاروں کی ترجیحات میں شامل نہیں۔

کاشتکار تنظیموں کے مطالبے کے باوجود حکومت کپاس کی فی من امدادی قیمت 4224 روپے مقرر کرنے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے گزشتہ سال صرف 85 لاکھ بیلز ہوئیں تاہم موجودہ صورتحال میں محکمہ زراعت کیلئے پنجاب میں 31 مئی تک 50 لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کی کاشت کا ہدف پورا کرنا بھی انتہائی مشکل ہو گیا ہے اور اسی لیے کاشتکار تنظیموں نے فصل کی بہتر پیداوار کیلئے بجٹ میں بجلی کی فی یونٹ قیمت چار روپے کرنے کیساتھ کپاس کی امدادی قیمت مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کر دیا ہے۔

محکمہ زراعت کے حکام کا کہنا ہے کہ گندم کی کٹائی تاخیر کا شکار ہونے سے کپاس کی کاشت میں مسائل آ رہے ہیں تاہم حکومت نے کھاد، زرعی آلات اور قرضوں کی مد میں کاشتکار کو کافی حدتک ریلیف دے دیا ہے جس سے کپاس کی فصل کو بہتر کرنے میں کافی حدتک مدد ملے گی۔

ٹڈی دل سے بھی کپاس کی فصل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اور پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کے پاس وسائل نہ ہونے پر حکومت نے سبزہ خور کیڑے کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے سپرد کر دی ہے لیکن اسکے باوجود کاشتکار صورتحال سے مطمئن نہیں۔