سیاہ فام امریکی کی ہلاکت کیخلاف دنیا بھر میں مظاہرے، امریکا میں کولمبس کا مجسمہ گرا دیا گیا

(آئی این این نیوز)

امریکا میں سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کے قتل کےخلاف دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

وائٹ ہاؤس کی بڑھائی گئی سیکیورٹی میں کمی کر دی گئی ہے اور جنوبی حصے پر لگائے گئے اضافی کنکریٹ بیرئروز ہٹا دئیےگئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیلی مک این اینی نے بتایا کہ امریکا میں پولیس اصلاحات آخری مراحل میں ہیں اور انہیں جلد عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

بوسٹن شہر میں مظاہرین نے کرسٹوفر کولمبس کے مجسمے سے سر اتارپھینکا جب کہ رچمنڈ میں مظاہرین نے ٹرک کی مدد سے کولمبس کا مجسمہ گرا دیا ۔

مظاہرین نے پولیس کے ہاتھوں جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے نتیجے میں نسلی عدم مساوات کے خاتمے کا مطالبہ کیا

جارج فلائیڈ کے بھائی فلونائز فلائیڈ نے امریکی ا یوان نمائندگان کی جوڈیشری کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاہ فام افراد پر پولیس تشدد کو روکیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق جوڈیشری کمیٹی پولیس تشدد اور نسلی ناانصافی سے نمٹنے کے لئےنئی قانون سازی پرکام کررہی ہے جس کا بل متوقع طورپر آئندہ ہفتےہاوس میں پیش کر دیا جائے گا۔

امریکی فضائیہ کے پہلے سیاہ فام سربراہ چارلس براؤن نے 5 منٹ کا ویڈیو بیان جاری کیا جس میں وہ بطور افریقی امریکن شہری سروس سے پہلے اور اس دوران پیش آنے والے واقعات بتاتے ہوئے جذباتی ہو گئے۔

امریکا میں نسل پرستی کے خلاف انگلینڈ کے مختلف شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے اور جارج فلائیڈ کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

برطانیہ کے دارالحکومت لندن، مانچسٹر اور ہل میں جارج فلائیڈ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مظاہرین نے گھٹنے ٹیک کر 9 منٹ تک خاموشی اختیا رکی۔

نیدرلینڈ زکے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں بھی ہزاروں افراد نے جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کیا۔

خیال رہے کہ امریکا کی ریاست منی سوٹا کے شہر مینی پولس میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں سیاہ فام امریکی کی ہلاکت کے بعد سے امریکا سمیت دنیا بھر میں نسلی تعصب کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے بلیک لائیو میٹرس تحریک میں تبدیل ہو گئے ہیں۔