معروف پاکستانی اداکارہ صبیحہ خانم کا امریکہ میں انتقال

پاکستان کی نامور اداکارہ اور پاکستانی فلمی صنعت کی خاتون اول صبیحہ خانم 13 جون کی صبح امریکی ریاست ورجینیا میں وفات پاگئیں۔

صبیحہ خانم پاکستانی فلم انڈسٹری کے مقبول ترین ناموں میں سے تھیں جنھوں نے نہ صرف اپنی اداکاری سے لوگوں کے دل موہ لیے تھے بلکہ انھیں متعدد بار نگار ایوارڈز سے بھی نوازا گیا تھا۔

50 اور 60 کی دہائی میں فلم انڈسٹری نے ان کا عروج دیکھا جس دوران انھوں نے سپر ہٹ فلموں میں کام کیا جیسے کنیز، مکھڑا، انوکھا، تہذیب۔ انھوں نے اپنی اداکاری کے جوہر 80 اور 90 کی دہائی میں بھی دکھائے اور اس دوران بھی کئی ایوارڈ یافتہ فلموں میں کام کیا۔

ان فلموں میں صبیحہ خانم نے مرکزی کردار ادا کیے جس میں اکثر ان کے ساتھ کام کرنے والے ان کے شوہر سنتوش کمار ہوتے تھے۔

صبیحہ خانم کا فلمی سفر

صبیحہ خانم کا اصل نام مختار بیگم تھا اور وہ 16 اکتوبر1936ء کو گجرات میں پیدا ہوئی تھیں۔

ان کے والد کا نام محمد علی ماہیا تھا جن کا تعلق دہلی سے تھا۔ والدہ اقبال بیگم (بالو) امرتسر سے تھیں۔ 1948ء میں سیالکوٹ میں ایک ثقافتی وفد نے ایک سینما کا دورہ کیا۔ اس وفد میں مختار بیگم بھی شامل تھیں۔ انھوں نے وہاں ایک پنجابی گیت ‘کتھے گیا پردیسیا وے’ گایا جو کہ فلم ‘سسی پنوں ‘ کا گیت تھا۔

ان کی اس کارکردگی کو خاصی پذیرائی ملی۔ جلد ہی محمد علی ماہیا نے اپنی بیٹی کا تعارف اس وقت کے معروف سٹیج ڈرامہ رائٹراور شاعر نفیس خلیلی سے کرایا جنھوں نے انہیں ایک ڈرامے ‘بت شکن’ میں ایک کردار کی پیشکش کی۔

یہ نفیس خلیلی ہی تھے جنہوں نے مختار بیگم کا نام صبیحہ خانم رکھا۔ نفیس خلیلی کی درخواست پر مسعود پرویز نے انہیں اپنی فلم ‘بیلی’ میں کاسٹ کرلیا اور یوں ‘بیلی’ صبیحہ خانم کی پہلی فلم ثابت ہوئی جو 1948ء میں ریلیز ہوئی۔

‘بیلی’ مسعود پرویز کی بطور ہدایتکار پہلی فلم تھی۔ اس کی کاسٹ میں سنتوش کمار، صبیحہ خانم اور شاہینہ شامل تھیں۔ اس کے بعد صبیحہ نے انور کمال پاشا کی سلور جوبلی فلم دو آنسو میں نوری کا کردار ادا کیا۔

پھر اگلی فلم ‘آغوش’ میں بھی انھوں نے لاجواب اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ اس فلم کی ہدایات مرتضیٰ جیلانی نے دیں اور فلم کی کاسٹ میں صبیحہ ، سنتوش اور گلشن آراء شامل تھے۔

1953ء میں انور کمال پاشا کی فلم غلام میں بھی ان کی اداکاری نے سب کو چونکا کے رکھ دیا۔

اس کے بعد جس فلم میں صبیحہ خانم کی اداکاری کا نوٹس لیا گیا اس کا نام گم نام تھا۔

اس فلم کی ہدایات بھی انور کمال پاشا نے دی تھیں اوراس کی کاسٹ میں سیما، سدھیر اور صبیحہ خانم شامل تھے۔

‘دلا بھٹی’ میں بھی ان کا کردار ناقابل فراموش تھا بلکہ اس کردار کو ان کا امر کردار کہا جاتا ہے۔

صبیحہ خانم کو اپنے زمانے کے تمام مشہور اداکاروں کے مقابل کاسٹ کیا گیا لیکن سنتوش کمار کے ساتھ ان کی فلموں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ان کی معروف فلموں میں وعدہ، پاسبان، شیخ چلی، سات لاکھ، گمنام، دیوانہ، آس پاس، سسی، سوہنی، چھوٹی بیگم، داتا، حاتم، آج کل، مکھڑا، عشق لیلیٰ، دل میں تو، ایاز، محفل، پرواز، طوفان، موسیقار، سرفروش اور دیگر کئی فلمیں شامل ہیں‎۔

صبیحہ خانم نے متعدد فلموں میں کیریکٹر ایکٹرس کی حیثیت سے بھی انمٹ نقوش ثبت کیے جن میں کنیز، دیور بھابی، پاک دامن، انجمن، محبت، تہذیب، اک گناہ اور سہی سر فہرست ہیں‎۔

صبیحہ خانم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستانی سلور سکرین کی پہلی خاتون تھیں جنھیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ملا۔

یہ اعزاز انھیں 14 اگست 1986ء کو عطا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ انھیں بہترین اداکارہ کی حیثیت سے کئی ایوارڈ ملے۔

صبیحہ خانم نے جو ایوارڈ حاصل کیے ان کی تفصیل ذیل میں بیان کی جا رہی ہے۔

سات لاکھ، شکوہ اور دیوربھابی میں بہترین اداکارہ، اک گناہ اور سہی میں سپیشل ایوارڈ اورسنگدل میں بہترین معاون اداکارہ کے ایوارڈ شامل تھے۔ ‎

 

ریڈیو پاکستان کے مطابق اس کے علاوہ صبیحہ خانم کے کریڈٹ پر کئی ٹی وی ڈرامے بھی ہیں۔

’پاکستانی فلم انڈسٹری نے اپنے عظیم ترین ناموں میں سے ایک کو کھو دیا ہے‘

انتقال کی خبر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے تعزیت کا اظہار کیا اور ان کی موت کو ایک بڑا نقصان قرار دیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے ٹویٹ میں کہا کہ انھیں صبیحہ خانم کی موت کا بہت افسوس ہے اور اس وقت کا ذکر کیا جب انھوں نے واشنگٹن میں اداکارہ سے ملاقات کی تھی اور بتایا کہ وہ کتنی دلکش تھیں۔