پاکستان میں کاٹن جننگ انڈسٹری کا مستقبل خطرے میں پڑگیا

(آئی این این نیوز)

کراچی: 

وفاقی بجٹ میں کاٹن جننگ انڈسٹری کو درپیش مسائل کی نشاندہی کے باوجود توجہ نہ دینےسے پاکستان میں کاٹن جننگ انڈسٹری کا مستقبل بھی خطرے میں پڑگئی ہے۔

وفاقی مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی یقین دہانی کے باوجود وفاقی بجٹ میں آئل کیک (کھل بنولہ) پرجی ایس ٹی ختم نہ کیا گیا جس سے کمپوزٹ یونٹ کے حامل کاٹن جنرز اور آئل ملز مالکان کو کروڑوں روپے کے سیلز ٹیکس ادائیگیوں کے نوٹسز موصول ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ گزشتہ  تقریباً ایک سال سے کاٹن جنرزاور آئل ملز مالکان کا ایف بی آر سے آئل کی پر عائد 5 سے 8 فیصد سیلز واپس لینے سے متعلق مذاکرات کے کئی دور ہوئےاور کچھ عرصہ قبل کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھی اسکی باضابطہ منظوری دے دی تھی لیکن وفاقی کابینہ سےمنظوری نہ ملنےسے یہ سیلز ٹیکس ختم نہ ہو سکا تھا۔

جس کے بعد چند روز قبل ہی کاٹن جنرز اور آئل ملز مالکان کے ایک نمائندہ وفد نے اسلام آباد میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سے ملاقات کی جس میں انہوں سیلز ٹیکس ختم کرنے کی یقین دہانی کروانے کےساتھ انکے دیگر مسائل بھی حل کرنے کا بھی عندیہ دیاتھا مگر تین روز قبل اعلان کردہ وفاقی بجٹ میں کاٹن جنرز اور آئل ملز سیکٹر سے متعلق کسی بھی مسئلےکا حل سامنے نہیں آیا جس پر ملک بھر کے کاٹن جنرز میں اضطراب کی کیفیت بڑھگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بجٹ اقدامات پر مایوسی کے بعد ملک بھر کے کاٹن جنرز کا ایک ہنگامی اجلاس آئندہ ایک دو روز کے دوران ملتان میں متوقع ہونے جس میں مسائل کے مکمل خاتمے تک ممکنہ طورپرجننگ فیکٹریاں اور آئل ملز بند کرنے سے متعلق کوئی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب اور سندھ میں اس وقت  4جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں اور ابتدائی طور پر پنجاب میں نئی روئی کے سودے 8500 روپے اور سندھ میں 7900 روپے فی من تک ہو رہے ہیں جب کہ پنجاب میں پھٹی کے نرخ 4100 روپےفی 40کلو گرام اور سندھ میں 3800روپے تک ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رواں ہفتے کے دوران پنجاب اور سندھ میں مجموعی طور پر10سے زائد جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہوسکتی ہیں لیکن کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ممکنہ طورپر جننگ فیکٹریوں کی بندش کے فیصلےسے ملک بھر میں ایک نئے بحران کا خدشہ ہے جس کے سب سے بڑے متاثرین کپاس کے کاشت کار ہوں گے۔انہوں نےبتایا کہ بھارت میں کاٹن کارپوریشن آف انڈیا ہر سال پھٹی کی قیمتیں امدادی قیمت سے کم ہونے کی صورت میں کسانوں سے لاکھوں من پھٹی براہ راست خریدتی ہے جو بھارتی کسانوں کے لیےخوشحالی کاباعث بنتی ہے اس تناظر میں حکومت پاکستان کو بھی چاہیئے کہ وہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان(ٹی سی پی)کو کسانوں سے براہ راست پھٹی کی خریداری کی ھدایات جاری کرے تاکہ کسانوں کی فی ایکڑ آمدنی بہتر ہو سکے۔انہوں نے بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چند روز قبل ایک تجویز منظور کی تھی جس میں فی 40کلوگرام پھٹی کی امدادی قیمت 4224روپے کو بنیاد بنا کر کاٹن جنرز سے روئی خریدنے کی سفارش کی گئی تھی جسے وفاقی کابینہ نے منظور نہیں کیا تاہم اگر پاکستان میں بھی کسانوں سے حکومتی سطح پر پھٹی خریدی جائے تو پاکستانی کسان بھی بھارتی کسان کی طرح معاشی طور پر مضبوط ہو سکتا ہے۔