سنتھیا پر مقدمے کی درخواست، عدالت پولیس پر برہم

(آئی این این نیوز)

اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کے خلاف مقدمے کے اندراج کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

سیشن کورٹ اسلام آباد میں سنتھیا ڈی رچی پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج عبدالغفور نے سماعت کی۔

پولیس کی جانب سے تفصیلی جواب جمع نہ کرانے پر عدالت نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے تھانہ بنی گالہ پولیس کو آج ہی تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے اس موقع پر عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پولیس جان بوجھ کر تفصیلی جواب جمع نہیں کرا رہی۔

عدالت نے پولیس کا تفصیلی جواب آنے تک سماعت میں وقفہ کر دیا۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے کارکن وقاص عباسی نے سینتھیا رچی کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔

اس سے قبل اسلام آباد ہی کی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان نے پیپلز پارٹی اسلام آباد کے صدر شکیل عباسی ایڈووکیٹ کی جانب سے مقدمہ اندراج کی درخواست دائر پر فیصلہ سناتے ہوئے سنتھیا رچی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے کہ بلاگر، سوشل میڈیا ایکٹویسٹ اور فلم میکر کہلانے والی امریکی شہری سنتھیارچی آج کل پاکستانی سوشل میڈیا پر تنازعات کی زد میں ہیں اور ان کے ٹویٹ اور ویڈیوز کا ہدف پیپلز پارٹی اور اُس کی اعلیٰ قیادت ہے۔

سنتھیا رچی پر ناصرف پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو شہید پر الزمات عائد کرنے کا الزام ہے بلکہ انہوں نے سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین پر دست درازی اور سابق وزیرِ داخلہ رحمٰن ملک پر جنسی زیادتی جیسے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔

یوسف رضا گیلانی، رحمٰن ملک اور پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے سنتھیارچی کے اِن الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

سابق وزیرِ داخلہ رحمٰن ملک کی جانب سے سنتھیا رچی کو 50 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا گیا ہے جبکہ سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے سنتھیا رچی کو 10 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیجوایا ہے۔

امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی کی جانب سے بھی سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کو 12 کروڑ روپے ہرجانے کا لیگل نوٹس بھجوایا گیا ہے۔