خواجہ برادران کے خلاف گواہوں کے بیانات قلمبند

(آئی این این نیوز)

لاہور کی احتساب عدالت نے پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی ریفرنس کی سماعت کے دوران مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ برادران خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کے خلاف گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔

احتساب عدالت لاہور میں ہونے والی سماعت کے دوران عزیز بھٹی ٹاؤن کی انتظامیہ نے ہاؤسنگ سوسائٹی کا ریکارڈ پیش کر دیا۔

عدالت میں سماعت شروع ہوئی تو خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلیمان رفیق نے حاضری مکمل کروائی۔

حاضری کے بعد عدالت نے خواجہ برادران کو کمرۂ عدالت سے جانے کی جازت دے دی۔

عدالت نے خواجہ برادران کے خلاف گواہوں کے بیانات قلمبند کیے، ان گواہوں میں ریاض حسین اور نذیر احمد شامل ہیں۔

لاہور کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے اپیل کی کہ کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد خون کا پلازمہ عطیہ کریں، میں خود پلازمہ دینے کے لیے تیار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کورونا وائرس کی وباء کے بجائے حزبِ اختلاف سے لڑ رہی ہے۔

رہنما مسلم لیگ نون کا کہنا ہے کہ پوری دنیا نے کہا کہ کچھ عرصے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کریں، مگر ہمارے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہم اسمارٹ لاک ڈاؤن کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اب کورونا وائرس کی وباء ملک بھر میں پھیل چکی ہے، ملک میں سلیکٹڈ لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے، حکومتی وزراء گالیاں دیتے رہتے ہیں۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ بجٹ سے 4 دن پہلے اپوزیشن رہنما کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، وزیرِ اعظم عمران خان کا کام صرف اپوزیشن کو برا بھلا کہنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو لاہور والوں کو جاہل کہے وہ خود جاہل ہے، عوامی نمائندے کو شہریوں کے بارے میں غلط الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔

نون لیگی رہنما نے یہ بھی کہا کہ لائف سیونگ انجکشن ناپید ہو چکے ہیں، انجکشن انتہائی مہنگے داموں فروخت کیے جا رہے ہیں، بنگلا دیش یہ انجکشن بنا رہا ہے جبکہ ہم اب تک فیصلہ نہیں کر سکے۔