والدہ کی وفات کے بعد 2 بار خودکشی کا ارادہ کیا: نازش جہانگیر

(آئی این این نیوز)

پاکستان کی نامور ماڈل و اداکارہ نازش جہانگیر نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے والدہ کی وفات کے بعد ناامید ہو کر دو بار خودکشی کا ارادہ کیا۔

اداکارہ نے بتایا کہ وہ گزشتہ 10 برس سے ڈپریشن میں مبتلا ہیں اور اس سے مستقل لڑ رہی ہیں، وہ اس بیماری کو شکست دینے کیلئے مستقل کوشاں بھی ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اداکارہ نے اپنی بیماری سے متعلق کھل کر اظہار خیال کرتی ایک طویل پوسٹ شئیر کی۔

انہوں نے بتایا کہ والدہ کی وفات کے بعد سب کچھ بے معنی ہوگیا تھا اور وہ بالکل ناامید ہوگئی تھیں۔

نازش جہانگیر نے کہا کہ وہ اپنی اس کیفیت کو بیان کرنے اور کسی سے اس متعلق بات کرنے سے قاصر تھیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 10 برس سے دماغی بیماری ’پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر‘ کا شکار ہیں، اس بیماری کا علاج نہ کرنے سے اس کے تباہ کن اثرات ہوسکتے ہیں۔

نازش جہانگیر نے اپنی پوسٹ میں مزید بتایا کہ یہ بیماری نا صرف آپ کے گھر والوں اور دوستوں سے تعلقات کو متاثر کرتی ہے بلکہ یہ آپ کو جذباتی مسائل اور صحت سے متعلق مسئلوں میں بھی مبتلا کردیتی ہے۔

نازش جہانگیر نے بتایا کہ وہ اس بیماری سےلڑنے کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت خود کھڑی ہوئیں اور ان لوگوں کو توجہ کا مرکز بنایا جن کے ساتھ اس طرح کے واقعات پیش آچکے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ایسا کرنے سے انہیں لوگوں کی مایوسیوں کی وجوہات کا پتہ چلا اور پھر اپنی بیماری سے نکنے میں مدد ملی۔

2015 میں پاکستانی شوبز انڈسٹری میں کیرئیر کا آغاز کرنے والی نازش جہانگیر نے کہا کہ اس بیماری سے نکلنے کا  ایسا کوئی بھی فارمولا نہیں ہے جو اچانک آپ کو خوف سے نکال کر ٹھیک کر دے۔

اداکارہ نے کہا کہ میں سب کے لیے دعا کرتی ہوں کہ اس بیماری ک شکار افراد اتنے مضبوط ہوں کہ اپنی اس  بیماری کے بارے میں بات کریں اور اس سے لڑیں۔

انہوں نے اس بیماری میں مبتلا لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کی زندگی میں بیشتر مقامات پر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب آپ کسی سے بات کرنا مناسب نہیں سمجھتے، کسی کی بات بھی سننا نہیں چاہتے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آپ کو اپنے دل کی بات کرنا ہوتی ہے اور اپنے اندر رہنے والی افسردگی کا مقابلہ ڈٹ کر کرنا ہوتا ہے۔

نازش جہانگیر نے کہا کہ آپ اپنی زندگی میں مثبت چیزیں تلاش کریں اور منفی چیزوں کو نکال باہر کریں، سب کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں، لوگ زندگی کو جس طرح‌ گزارنا چاہتے ہیں‌ انہیں‌ گزارنے دیں اور ہر ایک بارے میں اندازے نہ لگائیں۔