وزیراعظم کا طالب جوہری کے انتقال پرگہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

(آئی این این نیوز)

وزیراعظم عمران خان نے معروف عالم ِدین اور ذاکر علامہ طالب جوہری کے انتقال پرگہرے دکھ اورافسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی کی دعا اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے۔

علامہ طالب جوہری گزشتہ کئی روز سے کراچی کے نجی اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج تھے، ان کی عمر 81 برس تھی۔

ان کی میت انچولی میں مسجد خیرالعمل منتقل کردی گئی جہاں مرحوم کی نماز جنازہ بعد نماز ظہرین امروہہ گراونڈ انچولی میں ادا کی جائے گی اور تدفین وادی حسین قبرستان میں کی جائے گی۔

علامہ طالب جوہری کے انتقال پر سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ عوام ایک عظیم عالم دین سے محروم ہوگئے۔

علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے معروف عالم دین علامہ طالب جوہری کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علامہ طالب جوہری ایک عہد تھا جو مکمل ہوا، وہ حافظ قرآن، مفسرِ قرآن، مصنف اور شاعر تھے۔

پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان، آفتاب صدیقی اور کنوینر ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے علامہ طالب جوہری کے انتقال پر اظہار افسوس کیا۔

وفاقی وزیر علی زیدی نے علامہ طالب جوہری کے انتقال پر اہلخانہ سے اظہار تعزیت کی اور کہا کہ علامہ طالب جوہری جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ علامہ طالب جوہری کو تفسیر قرآن اور خطابت کے فن میں کمال حاصل تھا، وہ قرآن کی آیتوں سے اپنی بات کا آغاز کرتے، اس بات کو ثابت کرنے کے لیے قرآن ہی کی ایک کے بعد دوسری آیت سے دلیلیں پیش کرتے، یہ وہ فن تھا جو دور حاضر میں انہی کا خاصہ تھا۔

علامہ طالب جوہری ابتداء میں خطابت کی جانب مائل نہیں تھے، وہ نجف سے تعلیم حاصل کرکے پاکستان واپس آئے تھے اورچاہتے تھے کہ یہاں بھی علمی خصوصاتحقیقی میدان میں کام کریں لیکن مواقع نہ ہونے کےسبب دوستوں کے کہنے پر خطابت کا آغازکیا، اور اس فن کو ایسا انداز دیا کہ اپنے دور کے جید علما کےدورمیں بھی اپنانام کرلیا۔

علامہ طالب جوہری 27 اگست 1939کو پیدا ہوئے، ان کے والد مشہور عالم دین علامہ مصطفیٰ خاں جوہر تھے۔

علامہ طالب جوہری کو کئی برسوں سے پاکستانی علماء میں مرکزی حیثیت حاصل تھی،کراچی کے نشتر پارک میں شام غریباں کی مجلس سے ان کی شہرت پاکستان اور پاکستان سے باہر دنیا بھر میں پھیل گئی، اس مجلس کے سامعین میں مسلمانوں کے تمام طبقہ ہائے فکر شامل ہوتے تھے۔

علامہ طالب جوہری فن تقریر میں صاحب اسلوب تھے، ایک دل نشیں مقرر ہونے کے علاوہ بھی علامہ طالب جوہری کی کئی جہتیں تھیں، انہوں نے کئی کتابیں لکھیں،قرآن کی تفسیر لکھی اور شاعری بھی کی، ان کی شاعری کے تین مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔