کورونا کے کیسز اور اموات ہمارے خدشات کی بنسبت کم ہیں، ڈاکٹر ظفر مرزا

(آئی این این نیوز)

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کورونا کے کیسز اور اموات ہمارے خدشات کی بنسبت کم ہیں۔

اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کا اجلاس ہوا جس میں ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ریمڈیسویر اور ڈیکسامیتھا سون ادویات بنانےکی منظوری دے دی ہے، افسوس ڈیکسامیتھا سون کو مارکیٹ سے غائب کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ دونوں ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، مارکیٹ میں ریمڈیسویر انجکشن کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے 3 امپورٹرز کو درآمدکی اجازت دی گئی ہے، ڈیکسامیتھا سون انجکشن بنگلادیش سے درآمد کی جارہی ہے۔

معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ 12 لوکل مینوفیکچررز کو ریمڈیسویر انجکشن بنانے کی اجازت دی گئی ہے، اُمید ہے چھ سے آٹھ ہفتے میں مقامی سطح پر انجکشن کی تیاری شروع ہو جائے گی، انجکشن کی کم از کم قیمت 10 ہزار 600 روپے مقرر کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انجکشن کی درآمد پر ٹیکس اور ڈیوٹی ختم کر دی ہے، یہ ادویات وینٹی لیٹر پر مریضوں اور آکسیجن لگنے والے مریضوں کو دی جائیں گی۔ جو مریض ان ادویات کی قوت خرید نہیں رکھتےاین ڈی ایم اےان کومفت فراہم کرے گا۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ یہ کہنا کہ پلازمہ تھراپی کورونا سے ٹھیک کردے گا ایسا نہیں ہے، افسوس ہمارے ہاں لاکھوں روپے میں پلازمہ فروحت کیا گیا، ڈاکٹر شمسی کو پلازمہ کی صرف کلینک تھراپی کے طور پر اجازت دی گئی، کسی کو پلازمہ جیسے چکر میں نہیں آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا کے باعث 2.5 فیصد مریضوں کی حالت تشویش ناک ہےجبکہ کورونا سے مکمل ریکوری ریٹ 40 فی صد ہے۔ پاکستان میں کورونا سے متاثر ہیلتھ ورکرز کی شرح 3 فی صد ہےجبکہ کورونا وائرس کے باعث 43 ہیلتھ ورکرز وفات پا چکے ہیں۔

معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ ہیلتھ ورکرز کی کیسے مدد کرنی ہے، اس کے لیے کام ہو رہا ہے،عید کے بعد کورونا وائرس کی ایک لہر آئی تھی، عیدالاضحٰی پر کورونا ایس او پیز سے متعلق صدر مملکت نے آج اجلاس طلب کیا ہے۔

عیدالاضحٰی پر کورونا سے متعلق ایس او پیز کا اعلان 30 جون تک کردیا جائے گا۔ اب ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد شروع ہوچکا ہے، پاکستان کے معاشی حالات کے باعث مکمل لاک ڈاؤن ممکن نہیں، 1300سے زائد ہاٹ اسپاٹ کی نشاندہی کرکے صوبوں کو بتا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نےسب سے کم توجہ تعلیم اور صحت کے شعبے کو دی، ملک میں صحت کا انفرا اسٹرکچر بھی درست نہیں ہے، جون میں معلوم ہوا صوبوں نے صحت بجٹ پورا استعمال کیا ہی نہیں۔

ڈاکٹر ظفر نے مزید کہا کہ سب سے کم صحت کا بجٹ بلوچستان نے استعمال کیا، نجی اسپتالوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ فروری کے ریٹ پر چارج کریں۔