لداخ میں چین کے بھی 40 فوجی مارے گئے،بھارتی دعوے پر چین کا ردِعمل آ گیا

بیجنگ(آئی این این نیوز)لداخ کے محاذ پر چین اور بھارت کے درمیان جھڑپ میں 20 بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔بھارت نے دعوی کیا تھا کہ اس جھڑپ میں چین کے فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم چین نے اس کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔کہا جا رہا تھا کہ سرحد پر ہونے والی اس جھڑپ میں چین کے چالیس فوجی مارے گئے ہیں۔تاہم اب اس پر چینی وزارت خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔چینی وزارت خارجہ نے ایسی تمام خبروں کو جعلی قرار دے دیا ہے۔چینی وزارت خارجہ نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا کہ بھارت کے ساتھ متنازعہ علاقے پر ہونے والے حالیہ تصادم میں چین کے درجنوں فوجی مارے گئے۔وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لیجیان نے بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران چین کو جھڑپ میں بھاری جانی نقصان کی اطلاعات کو "جعلی اور بے بنیاد” قرار دیا۔بھارتی وزیر نے گذشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ لداخ کے مقام پر چین کے40 فوجی مارے گئے ہیں۔منگل کے روز گفتگو کرتے ہوئے ترجمان زاؤ لیجان نے کہا کہ تناؤ کو ختم کرنے کے لئے بیجنگ نئی دہلی کے ساتھ رابطے میں ہے۔خیال رہے کہ چین نے لداخ کے 40 سے 60 کلومیٹر تک کے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے، گزشتہ کافی دنوں سے لداخ پر بھارت اور چین کے درمیان تناؤ چل رہا تھا اور چینی فوج نے بھارت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرتے ہوئے بہت سے علاقے پر قبضہ جما لیا ۔اس کے ساتھ چین نے دراندازی کرنے والے بہت سے بھارتی فوجی مار بھی دیے تھے جن کی تعداد 20 سے زائد بتائی گئی ہے۔۔ لداخ کے کانگریس کے مقامی لیڈر ذاکر حسین کی فون کال منظر عام پر آئی تھی ، جس نے بھونچال مچا دیا ہے، وہ فون پرکسی کو بتا رہے ہیں کہ چین بھارت کے ساتھ جو کچھ بھی کررہا ہے، مودی سرکار کچھ نہیں بتا رہی۔ کم ازکم جھڑپوں میں دو سو سے تین سو کے درمیان انڈین آرمی کے لوگ مارے جاچکے ہیں۔ چینی فوج لداخ اور گلوان وادی کے 135کلومیٹر اندر آچکی ہے، انہوں نے انڈین فوج کا تہس نہس کردیا ہے۔ایک نئی ایکچوئل لائن آف کنٹرول کھینچ دی ہے۔یہ سب کچھ مقامی لیڈر ذاکر حسین بتا رہے ہیں۔