ڈاکٹر عافیہ کیس عالمی معاملہ ہے، مداخلت نہیں کر سکتے: سندھ ہائیکورٹ

(آئی این این نیوز)

سندھ ہائی کورٹ میں امریکی جیل میں قید پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس عمر سیال نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کیس عالمی معاملہ ہے، سندھ ہائی کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی۔

دورانِ سماعت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ عافیہ صدیقی کی واپسی کے لیے وفاقی حکومت کوئی اقدامات نہیں کر رہی۔

جسٹس عمر سیال نے ان سے استفسار کیا کہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر امریکا میں کیسے عمل درآمد ہو سکتا ہے؟

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ امریکا میں عافیہ صدیقی مر بھی گئیں تو ان کی لاش بھی نہیں دیں گے۔

جسٹس عمر سیال نے پھر استفسار کیا کہ کیا سندھ ہائی کورٹ امریکی صدر ٹرمپ کو حکم دے کہ جیلوں سے ملزمان کو رہا کریں؟

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کیس عالمی معاملہ ہے، سندھ ہائی کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی، عدالت جذبات پر نہیں قانون کے مطابق فیصلہ کرتی ہے۔

جسٹس عمر سیال کا یہ بھی کہنا ہے کہ کیس کو موسمِ گرما کی تعطیلات کے بعد ہی سنا جائے گا۔

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس 17 سال سے لٹکایا جا رہا ہے۔

عدالتِ عالیہ نے درخواست کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔