شپنگ انڈسٹری کے 7 ہزار پاکستانی وطن واپسی کیلئے حکومتی امداد کے منتظر

شپنگ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے سات ہزار پاکستانی تاحال دنیا بھر میں بحری جہازوں اور غیر ملکی پورٹس اور دیگر شہروں میں پاکستان آنے کے انتظار میں کئی ماہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے اعلیٰ حکومتی اہلکار اسے عالمی مسئلہ کہہ کر مہینوں سے نظر انداز کررہے ہیں جبکہ دنیا بھر کی حکومتیں اپنی بحری تجارت سے منسلک افراد کو چارٹرڈ فلائٹوں سے اپنے اپنے ممالک واپس لارہی ہیں۔

اسی حوالے سے روس کے ساحلی شہر نوورسک میں گزشتہ چار ماہ سے تجارتی بحری جہاز میں پھنسے ہوئے سیکنڈ انجینئر عبید جوزف بھی ہیں جو مارچ میں تجارتی بحری جہاز سے روس کے ساحلی شہر میں مارچ کے پہلے ہفتے میں اترے جہاں ان کی طبعیت خراب ہوئی اسپتال میں داخل ہوئے اور اس کے بعد سے وہ کورونا کی وبا کے سبب آج چار ماہ ہونے کے باوجود پھنسے ہوئے ہیں۔

عبید جوزف نے کہا کہ اس دوران روس کے دارالحکومت ماسکو میں واقع پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے ان سے رابطہ کیا گیا اور تسلی دی گئی کہ آپ آرام کریں جیسے ہی کوئی فلائٹ پاکستان جائے گی آپ کو روانہ کردیا جائے گا۔

عبید جوزف کے مطابق چار ماہ سے وہ ہوٹل میں رہ رہے ہیں کھانا پینا اور بیماری کے اخراجات کے سبب وہ ہزاروں ڈالر کے مقروض ہوگئے ہیں اور اپنے ملک جانے کے لیے بے چین ہیں۔

سیکنڈ انجینئر عبید جوزف نے وفاقی وزیر پورٹ اور جہاز رانی علی زیدی اور وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ ان کی واپسی کے لیے فوری طور پر انتظامات کیے جائیں اور سفارتخانہ پاکستان کو ہدایات کی جائیں کہ ان کی پاکستان واپسی کے لیے انتظامات کیے جائیں۔

  انہوں نے کہا کہ اس مسئلے سے دوچار لوگ شدید معاشی اور نفسیاتی مسائل کے شکار ہیں اور اب ان میں مزید برداشت کی ہمت بھی ختم ہوتی جارہی ہے۔

اس حوالے سے شپنگ انڈسٹری کی بین الاقوامی شخصیت عبدالطیف صدیقی نے کہا ہے کہ اس وقت دنیا بھر کی حکومتیں اپنے اپنے بحری تجارت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو چارٹرڈ فلائٹ سے اپنے ملک واپس بلوارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کو بھی اس جانب توجہ دینا چاہیے اور جو پاکستانی جن کی تعداد ہزاروں میں ہے ان کو ملک واپس بلانے کے لیے جلد سے جلد انتظامات کرنے چاہئیں۔