BISP کا نام تبدیل کرنے کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

(آئی این این نیوز)

لاہور ہائیکورٹ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا نام بدل کر احساس پروگرام رکھنے کے خلاف درخواست سماعت کیلئے منظور کرلی، وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 22 جولائی تک ملتوی کر دی۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کی فریق بننے کی درخواست پر سماعت کی، عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا کہ وفاق بڑا تیز ہے، عدالت نے بلایا بھی نہیں لیکن وفاق کی پوری ٹیم آ گئی۔

درخواست گزار کی طرف سے عابد ساقی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ قمر زمان کائرہ بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے پہلے چیئرمین تھے، وہ نام تبدیلی کے معاملے پردرست معاونت کر سکتے ہیں۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کا نام بدل کر ایک لیڈر کا نام ختم کرنے کی کوشش کی گئی، یہ لوگ مخالفین کی تختیاں اکھاڑ کر اپنی لگانا چاہتے ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا بورڈ کو اختیار ہے کہ قانون سے ہٹ کر نام تخلیق کرتا رہے؟ ضرورت پڑی تو پارلیمنٹ کا ریکارڈ بھی منگوائیں گے۔

اس موقع پر عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری نے بیان دیا نہیں، دلوایا گیا ہے، اب اندر کی باتیں باہر آنا شروع ہو گئی ہیں۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکومت لوگوں کو تعلیم، روزگار دے ہم حمایت کریں گے، دنیا میں لوگ ہیروز کے نام سے یادگاریں بناتے ہیں، ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں ایسا نہیں ہے۔