CDA کی تنظیمِ نو کیخلاف درخواست، فریقین کا جواب جمع نہ ہوا

اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی تنظیمِ نو کے کابینہ کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی جس میں فریقین کی جانب سے تحریری جواب عدالت میں جمع نہ کرایا جا سکا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سی ڈی اے کی تشکیلِ نو سے متعلق مختصر فیصلہ آج جاری کریں گے۔

ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکریٹری کابینہ، ممبر ایڈمن سی ڈی اے عدالت میں پیش ہوئے۔

سی ڈی اے لیبر یونین کی جانب سے کاشف علی ملک ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

وفاقی حکومت، سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی جانب سے آج کی سماعت کے دوران تحریری جواب عدالت میں جمع نہ کرایا جا سکا، جس پر عدالتِ عالیہ نے فریقین کو جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت دے دی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ مجوزہ پلان سے وفاقی حکومت کرنا کیا چاہتی ہے؟

ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے انہیں بتایا کہ مجوزہ پلان تاحال صرف ایک ایڈوائزری ہے، پلان تشکیل دے کر وفاقی کابینہ کو بھیجا جائے گا اور پھر کابینہ فیصلہ کرے گی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے دریافت کیا کہ کیا کوئی ڈیپارٹمنٹ کسی وزارت کو جا رہا ہے یا ابھی یہ ایک پلان ہے؟

ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ سی ڈی اے کے حوالے سے تاحال اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ قانون میں ترمیم کے بغیر سی ڈی اے کے ڈیپارٹمنٹس کسی وزارت کے تحت نہیں کیے جا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ اس لیٹر کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کابینہ سی ڈی اے کی حالیہ کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔

سی ڈی اے کے ممبر ایڈمن نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک اس لیٹر پر کوئی کام نہیں ہوا ہے بلکہ یہ تاحال ہمیں ملا بھی نہیں ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ تو یہ ابھی ایک خواب ہے، جبکہ درخواست بہت جلدی دائر کر دی گئی۔

اسلام آبادہائی کورٹ نے کیس کی سماعت 17 جولائی تک ملتوی کر دی۔