وفاقی حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کرلیا، پٹرولیم کی قیمت میں25 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی گئی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات12 بجے سے ہونے کا امکان ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری وزارت پٹرولیم کو بھجوا دی ہے، سمری میں پٹرولیم کی قیمت میں 25 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح سمری میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں21 روپے 31 پیسے فی لیٹر ، مٹی کے تیل کی قیمت میں 23 روپے 50 پیسے، لائٹ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر17 روپے 84 پیسے اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات12 بجے سے ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 100فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔

دو ماہ قبل 20 ڈالر فی بیر ل ملنے والے خام تیل 41 ڈالر 18سینٹ فی بیرل ہوگئی ہے۔ یعنی قیمت میں دو گنا سے زائد اضافہ ہوگیا ہے۔ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثربراہ راست عوام پر پڑے گا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے سے مہنگائی کا ایک اور سیلاب آئے گا۔ جس کا براہ راست اثر مزدور، مڈل اور تنخواہ دار طبقات پر پڑے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت بجٹ میں پٹرولیم لیوی 30 روپے فی لیٹر فکس کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔ اسی طرح 17 فیصد سیلز ٹیکس اور ریٹ مارجن اس کے علاوہ وصول کیا جائے گا۔ واضح رہے حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیاں پٹرول کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کے بعد اب کروڑوں روپے منافع کمائیں گی۔