میر شکیل الرحمان کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی

(آئی این این نیوز)

لاہور ہائی کورٹ نے جنگ اور جیو نیوز کے چیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمان کی درخواست ضمانت پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل بینچ نے میرشکیل الرحمان کی درخواست ضمانت پر سماعت کی جو ایک گھنٹے تک جاری ہے۔

فاضل بینچ کے دوسرے رکن جسٹس فاروق حیدر ہیں، عدالت میں سماعت کے دوران میر شکیل الرحمان کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میر شکیل الرحمان کے خلاف دائر کیے گئے ریفرنس میں ایک بھی لفظ ایسا نہیں ہے کہ جو ثابت کرتا ہو کہ میر شکیل الرحمان کرپشن کے مرتکب ہوئے ہیں۔

امجد پرویز نے کہا کہ ریفرنس میں جن شخصیات نواز شریف، ڈی جی ایل ڈی اے اور ڈائریکٹر لینڈ پر اختیارات کا غلط استمعال کرنے کا الزام لگایا گیا ہے ان کے ورانٹ گرفتاری جاری کیے گئے اور نہ ان کو گرفتار کیا گیا جب کہ میر شکیل الرحمان کو گرفتار کرکے امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔

امجد پرویز کا کہنا تھا کہ میر شکیل الرحمان کے پاس کبھی کوئی سرکاری عہد نہیں رہا او ر نہ کوئی ایسا ثبوت ہے کہ انہوں نے پبلک آفس ہولڈر سے کوئی ذاتی فائدہ حاصل کیا ہو،  یہ الاٹی اور اتھارٹی کا معاملہ ہے اس 34 سال پرانے معاملے میں شکایت کنندہ کہاں سے آگیا۔

دورانِ سماعت چیئرمیں ایگزیکٹیو کمیٹی پاکستان بار کونسل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بار کونسل کی درخواست پر اس کیس میں پیش ہوا ہوں، ہمیں معلوم ہے کہ عدالتیں بنیادی انسانی حقوق کی علمبردار ہیں

بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی اور میر شکیل الرحمان کے وکیل کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

کیس کا پس منظر

میر شکیل الرحمان نے 1986 میں لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں 54 کنال پرائیویٹ پراپرٹی خریدی، اس خریداری کو جواز بنا کر نیب نے انھیں 5 مارچ کو طلب کیا، میرشکیل الرحمان نے اراضی کی تمام دستاویزات پیش کیں اور اپنا بیان بھی ریکارڈ کروایا۔

نیب نے 12 مارچ کو دوبارہ بلایا، میر شکیل انکوائری کے لیے پیش ہوئے تو انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق اراضی کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے دوران اُن کی گرفتاری بلا جواز تھی کیونکہ نیب کا قانون کسی بزنس مین کی دوران انکوائری گرفتاری کی اجازت نہیں دیتا۔

لاہور ہائیکورٹ میں دو درخواستیں، ایک ان کی ضمانت اور دوسری بریت کے لیے دائرکی گئیں، عدالت نے وہ درخواستیں خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ مناسب وقت پر اسی عدالت سے دوبارہ رجوع کر سکتے ہیں۔