عزیر بلوچ کو 12 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے: حامد میر

(آئی این این نیوز)

سینئر تجزیہ کار اور کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر نے کہا ہےکہ عزیر بلوچ کو آرمی ایکٹ اور آفیشل

سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کے بعد 12 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے۔

سندھ حکومت نے عزیر بلوچ، نثار مورائی اور سانحہ بلدیہ فیکٹری کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی) کی رپورٹس جاری کردی ہیں۔

 رپورٹ میں’لیاری گینگ وار کے اہم کردار عزیر بلوچ کو کس کی سیاسی سرپرستی حاصل تھی اور بلدیہ فیکٹری کے ملزمان نے کس کے کہنے پر آگ لگائی’ جیسے اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔

عزیربلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ 36 صفحات پر مشتمل ہے جس میں اس کی فیملی کی تفصیلات بھی شامل ہیں جب کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں عزیر بلوچ کے 20 سے زائد دوستوں اور 16 رکنی اسٹاف کا بھی ذکر ہے۔

رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ نے 198 قتل کی وارداتوں کا اعتراف کیا اور قتل کی یہ وارداتیں لسانی اورسیاسی بنیادوں پر کی گئیں، عزیر بلوچ گینگ وار میں براہ راست ملوث تھا جسے 2006 میں بھی ٹھٹھہ کے علاقے چوہڑ جمالی سے گرفتار کیا گیا، 7 کیسز میں چالان کیاگیا اور وہ 10 ماہ جیل میں رہا۔

حامد میر کی گفتگو

اس حوالے سے کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر نے اپنے پروگرام میں بتایا کہ ’رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ کا ہمسایہ ملک کی انٹیلی جنس کے ساتھ تعلق تھا‘۔

حامد میر نے کہا کہ ’ہماری اطلاعات کے مطابق عزیر بلوچ کو آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کے بعد 12 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’ عزیر بلوچ نے جو 198 کے قریب قتل کیے ہیں اس کے مقدمات علیحدہ چلیں گے‘۔

واضح رہے کہ لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو رینجرز نے 30 جنوری 2016  کراچی کے مضافاتی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

عزیر بلوچ پر حریف گینگسٹر ارشد پپو اور متعدد افراد کے قتل کا الزام ہے جب کہ ملزم کراچی میں بھتہ وصولی میں بھی ملوث رہا ہے۔

اس کے علاوہ ملزم پر حساس معلومات غیر ملکی خفیہ ایجنسی کو فراہم کرنے کا بھی الزام ہے۔

عزیر بلوچ کو گرفتاری کے تقریباً ایک سال بعد فوج نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔