بھارت نے کلبھوشن یادیو تک دوسری قونصلر رسائی کی پاکستانی پیشکش قبول کرلی

(آئی این این نیوز)

اسلام آباد:  بھارت نے پاکستان کی کلبھوشن یادیو کو دوسری قونصلر رسائی کی پیشکش قبول کرلی ہے، بھارتی ناظم الامور دفتر خارجہ پہنچ گئے۔

 سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو آج قونصلر رسائی دی جائے گی، کلبھوشن یادیو کی موجودگی کی جگہ کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ بھارت نے عالمی عدالت سے کلبھوشن کی رہائی کیلئے رابطہ کیا، کلبھوشن یادیو کو 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا، کلبھوشن نے پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کا اعتراف کیا، خطے کے امن میں رکاوٹ بھارت ہی ہے، بھارت خطے کے امن و استحکام کو متاثر کر رہا ہے۔ خیال رہے پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائی گئی۔ کلبھوشن یادیو پر پاکستان کے خلاف جاسوسی اور اتنشار پھیلانے کا الزام تھا۔ کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پاٹیل  را  کا ایجنٹ تھا۔

بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف جرم کیا، کلبھوشن یادیو کو قانون کے مطابق دفاع کا پورا موقع دیا گیا، کلبھوشن سدھیر یادیو کا سروس نمبر 41558 زیڈ تھا۔

واضح رہے کہ کلبھوشن یادیو کو پاکستانی فورسز نے جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا تھا اور اس کے قبضے سے حساس مقامات کی تصویریں، اہم دستاویزات برآمد ہوئی تھیں، کلبھوشن یادیو بھارتی نیوی میں بھی ملازمت کرتا رہا ہے، کلبھوشن یادیو نے 1987 میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی جوائن کی اور 1991 میں بھارتی نیوی میں بحیثیت کمیشن افسر ملازمت کی۔

بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہونے کے بعد را کیلئے بھارت میں ہی جاسوسی کے فرائض انجام دیئے، کلبھوشن یادیو گرفتاری کے وقت بھی بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر تھا اور اس کی 2022 میں بطور کمیشن افسر ہی ریٹائرمنٹ ہونا تھی۔

کلبھوشن یادیو نے 2013 میں را میں شمولیت اختیار کی اور اس کے بعد بلوچستان، کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے اور علیحدگی کی تحریکیں چلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

بھارتی جاسو س کلبھوشن یادیو نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا تھا اس کی پاکستان آمد کا مقصد بلوچستان اور کراچی میں علیحدگی کی تحریکوں کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں قتل و غارت گری بھی کرنا تھا۔