فیفا، فٹبال اور سیالکوٹ لازم و ملزوم

(آئی این این نیوز)

سیالکوٹ:  روس میں گزشتہ سال ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ میں پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں تیار کی جانے والی فٹبال استعمال کی گئیں تو پاکستانی ہنرمندوں کا سرفخر سے بلند ہوگیا۔ پاکستان میں روس کے سفیر ایلکسے ڈو ڈوو نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ 1990ء سے 2010ء تک ہونے والے تمام ورلڈ کپ میں پاکستانی فٹبال ہی استعمال کی گئیں۔ برازیل میں ہونے والے 2014 کے میگا ایونٹ میں پاکستان کے علاوہ بھارتی فٹبال بھی استعمال کی گئیں تھیں۔

پاکستانی وزارتِ تجارت کے مطابق ورلڈ کپ کے لیے سیالکوٹ کی "فارورڈ اسپورٹس’’ نامی فرم ’’ ٹیلی اسٹارنامی فٹ بال فراہم کیئے۔ اسی کمپنی نے برازیل میں منعقد ہونے والے 2014ء کے فیفا عالمی کپ کے لیے "برازوکا’’ نامی فٹ بال بھی فراہم کیے تھے۔پاکستان دنیا بھر میں سالانہ تقریباً چار کروڑ فٹ بالز برآمد کرتا ہے اور وزارتِ تجارت کے مطابق مالی سال –18 2017 کے ابتدائی 10 ماہ میں پاکستان نے 122 ملین ڈالرز مالیت کے فٹ بالز برآمد کیے۔پاکستان کا صنعتی شہر سیالکوٹ کھیلوں کے سامان کی تیاری میں خاصی شہرت رکھتا ہے اور خاص طور پر اس شہر میں تیار کیے گئے فٹ بال دنیا بھر میں خاصے مقبول ہیں۔
دنیا بھر میں ہاتھ سے تیار کئے جانیوالے فٹبالز کا 70 فیصد حصہ سیالکوٹ میں تیار و برآمد کیا جاتا ہے، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کے حکام کے مطابق گزشتہ سال 4 کروڑ فٹبال برآمد کرکے 211 ملین ڈالر کا زرمبادلہ کمایا گیا۔ جرمنی، برطانیہ، امریکا اور ہالینڈ سمیت دیگر ممالک کو فٹبال ایکسپورٹ کی گئیں۔

فٹبال کی صنعت 2 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے، فٹبال کی مقامی صنعت اور برآمدات کے فروغ کیلئے وفاقی حکومت کی معاونت سے سیالکوٹ میں اسپورٹس انڈسٹریز ڈیولپمنٹ سینٹر (ایس آئی ڈی سی) قائم کیا گیا ہے جس کیلئے گزشتہ وفاقی حکومت نے 436 ملین روپے کے فنڈز فراہم کئے۔

پاکستان میں ہاتھ سے تیار کئے جانیوالے فٹبالز کا بڑا درآمد کنندہ جرمنی ہے جو مجموعی قومی برآمدات کا 14 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے جبکہ برطانیہ کا حصہ 10 فیصد، امریکا کا 8 فیصد اور ہالینڈ کا 7 فیصد ہے۔

دو سو ممالک میں ڈھائی کروڑ کھلاڑی فٹ بال کے میچوں میں حصہ لیتے ہیں۔ دنیامیں سب سے زیادہ کھیلاجانے والے اس کھیل کے لئے 40فیصد فٹ بالز سیالکوٹ میں بنائے جاتے ہیں۔عالمی تجارت میں باقی کسی بھی ملک سے زیادہ حصہ ہمارے اس چھوٹے سے شہر کا ہے۔جہاں اب جدید ترین انداز میں بغیر سلائی کے گیندیں بنائی جا رہی ہیں ۔ جدید ٹیکنالوجی میں بھی یہی شہرہی قیادت کر رہا ہے۔عالمی محققین نے کئی مضامین میں سیالکوٹ میں بننے والے فٹ بالوں کی خوبیوں کو اجاگر کیا ہے۔بلکہ یونیورسٹی آف ویلز کی ایک ٹیم ہمارے فٹ بالز پر تحقیق بھی شائع کر چکی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ کی جانب سے یہ عالمی مقام حاصل کرنا بھی ایک معجزہ ہے۔ جس میں پاکستانیوں کی مہارت اور محنت دکھائی دیتی ہے۔ انگریز تو تھے ہی فٹ بال کے شوقین مگر انڈیا میں رہنے والے انگریزوں کے لئے فٹ بال برطانیہ سے بذریعہ سمندر ی جہازبھیجے جاتے تھے ۔جو کبھی کبھی لیٹ بھی ہو جاتے۔ تب انگریز فٹ بالز کے بغیر ایسامحسوس کرتے جیسے پانی کے بغیر مچھلی۔

یہ 1889ء کا واقعہ ہے،بحری جہاز لیٹ ہوگیا۔ بے صبرے گورے نے اپنا پھٹا ہوا گیند سیالکوٹی کو تھماتے ہوئے اسے پنکچر لگانے کو کہا۔گورے کو یہ جان کر حیرت کی انتہانہ رہی کہ مرمت اصل سے بہتر تھی۔چنانچہ اس نے وقت اور پیسہ بچانے کی خاطر سیالکوٹی کو ہی مزید گیندیں بنانے کا آرڈر دے دیا۔یہیں سے سیالکوٹیوں کا ہنر کھل کر سامنے آ گیا۔ بعدازاں فٹ بال لندن سے یہاں آنے کی بجائے یہاںسے لندن جانے لگے۔وہ وقت اور آج کا دن ، سیالکو ٹ نے سبقت نہیں چھوڑی ۔ اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔1992میں ہمارے ہی فٹ بال ورلڈ کپ میچوں میں استعمال ہوئے تھے۔ سیالکوٹ میں ایک سوسے زائد اچھی فرمیں اعلیٰ قسم کی گیندیں بنا رہی تھیں ۔تاہم اب ہمیں عالمی منڈیوں میں چین اور جنوبی ایشیائی ممالک سے مسابقت کا سامنا ہے۔نئی ٹیکنالوجی آنے کے بعد پہلے مرحلے میں صرف 35کمپنیوں نے اس میعار کے مطابق کام کیاتھا ،بعدازاں حکومتوں کی مدد سے نئی ٹیکنالوجی میں سب ہی رواں ہو گئے۔

سیالکوٹ شہر میں سالانہ چار کروڑ فٹبال تیار کئے جاتے ہیں، جو کہ پوری دنیا کی پیداوار کا 75 فیصد حصہ بنتا ہے۔ پاکستان سالانہ کروڑوں فٹبال برآمد کرتا ہے اور سیالکوٹ کو فٹبال کی پیداوار کا عالمی دارالحکومت مانا جاتا ہے، جہاں دو ہزار کارخانے یہ کام کررہے ہیں۔

سیالکوٹ کا ٹینگو فٹبال 1982ء کے فیفا ورلڈکپ میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے شہر سیالکوٹ کی تمام فیکٹریوں کی فٹبال پیداوار میں لگ بھگ 35 پینتیس فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔اس شہر میں کئی نسلوں کے روزگار کا ذریعہ فٹبال بنانا رہا ہے، شہر کے دو لاکھ سے زائد افراد یہی کام کررہے ہیں۔کئی افراد کے خاندانوں کی روزی روٹی فٹبال ہے۔وہ فٹبال نہ بنائیں تو رات کو کھانا نہیں کھا سکتے ۔سیالکوٹ میں تیار ہونے والے فٹبال بین الاقوامی برانڈز جیسے ایڈیڈاز،نائیکی اور ری بوک وغیرہ فروخت کرتے ہیں، تاہم آٹھ بچوں کی ماں رفعت نصیر کو دن بھر میں دو گیندیں سینے پر صرف تین سو روپے ہی ملتے ہیں۔یہ دیکھنے میں بھی آیا ہے کہ کئی خواتین گھروں پر فٹبال سیتی ہیں۔ماضی میں بیشتر فٹبال فیکٹریوں میں بچے بھی کام کرتے تھے، تاہم چائلڈ لیبر پر عالمی ردعمل کے بعد سیالکوٹ میں 2007ء سے بچوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں۔جس سے فٹبال کی پیداوار کم ہو ئی ۔فیکٹریوں میں کم تنخواہوں کے بھی مسائل ہیں، خواتین ورکرز ہفتہ بھر میں تین سے پانچ ہزار روپے ہی کما پاتی ہیں، جبکہ مردوں کی آمدنی ان سے دوگنا زائد ہے۔ دوسری طرف مالک کہتے ہیں کہ برآمد کنندگان کو اپنی پیداوار کی اچھی قیمت ملے، تو وہ ورکرز کی تنخواہوں کو بھی بڑھائے گا۔

سیالکوٹ میں سالانہ چالیس ملین فٹبال تیار کیے جاتے ہیں جبکہ ورلڈ کپ کے دوران ان کی تعداد ساٹھ ملین تک پہنچ جاتی ہے۔ مجموعی طور پر دنیا بھر میں ہاتھ سے بنے تقریباََستّر فیصد فٹبال پاکستان میں تیار کیے جاتے ہیں۔

فیفا کی درجہ بندی میں پاکستان 200 ویں نمبر پر آتا ہے لیکن ہاتھ سے بنے فٹبال کی پیداوار میں یہ پہلے نمبر پر ہے۔ گزشتہ ہونے والے فٹبال کے ورلڈ کپ میں بھی پاکستان ہی کے تیار کردہ تین ہزار فٹبال استعمال ہوئے۔ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ کی دعوت پر پاکستان میں برازیل کے سفیر بھی سیالکوٹ پہنچے۔ اس طرح کئی بین الاقوامی وفود سیالکوٹ آکر فیکٹریوں کا معائنہ کرچکے ہیں اور اپنی آنکھوں سے ورکرز کی محنت شاقہ دیکھ چکے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ’برازوکا‘ کی تیاری نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ۔اس ورکرز کی انتھک محنت ہی شامل تھی۔

پہلے تمام عالمی مقابلوں میں مصنوعی چمڑے کے ہاتھ سے سلائی کیے ہوئے فٹبال استعمال ہوتے تھے جن میں پاکستان کو مہارت حاصل تھی۔ دو ہزار دو کے عالمی کپ کے بعد فٹبال کے نگران ادارے فیفا نے کھیلوں کا سامان تیار کرنے والی ایک عالمی کمپنی کی مدد سے فٹبال کی تیاری کی تکنیک کو تبدیل کرنے کا عمل شروع کیا اور دو ہزار چار میں مصنوعی چمڑے سے مشینوں کے ذریعے مولڈڈ فٹبال کی تیاری شروع ہوئی اور یہ ہی وہ وقت تھا جب پاکستان سے فٹبال کی برآمد متاثر ہونا شروع ہوئی۔اس وقت ہمارے پاس جدید سہولیات موجود نہیں تھیں جس کی مدد سے ہم نئے ڈیزائن کا فٹبال تیار کر سکتے، اس کے علاوہ اس کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد بھی ملکی سطح پر دستیاب نہیں تھا۔ دو ہزار چھ میں پہلی بار فٹبال کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کی بجائے تھائی لینڈ میں نئی ٹیکنالوجی ’ تھرمو مولڈڈ‘ سے تیار کردہ فٹبال استعمال کیا گیا اور دو ہزار دس میں بھی اسی ٹیکنالوجی سے چین میں تیار کردہ فٹبال استعمال کیا گیا۔

نیا تھرمو مولڈڈ فٹبال تو انتہائی جدید تکنیک سے بنایا جاتا ہے اور اس وقت کم لاگت اور قیمت کی وجہ سے دنیا میں اسی کی زیادہ مانگ ہے۔ سن انیس سو اٹھانوے کے فٹبال مقابلوں کے دوران مختلف عالمی کمپنیوں کی جانب سے تشہیری مہم میں استعمال ہونے والا سو ملین فٹبال کا تقریباً اسی فیصد سے زائد پاکستان نے مہیا کیا تھا۔ پاکستان میں روایتی چمڑے سے ہاتھ سے سلائی کردہ فٹبال بنانے پر توجہ مرکوز رہی اور بدلتے رجحانات کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا گیا اور ہمیں صرف فٹبال کا جو ڈیزائن فراہم کیا گیا ہم اسے نقل تیار کرتے رہے اور خود سے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نئے ڈیزائن پر کبھی توجہ نہیں دی۔

دو ہزار چار میں مشین کے ذریعے تیار کردہ فٹبال کی زیادہ مانگ کی وجہ سے دو ہزار چھ کے عالمی مقابلے میں پاکستان سے برآمد ہونے والے فٹبال کی تعداد آٹھ ملین فٹبال کے قریب رہ گئی اور اس ورلڈ کپ میں پاکستان سے صرف تین سے چار ملین فٹبال برآمد کیا جا سکا۔ جب عالمی اداروں نے خود فٹبال کے ڈیزائن کو تبدیل کیا تو ہمارے پاس اس کو بنانے کی صلاحیت نہیں تھی۔

پھر چند صنعت کاروں نے مشین کی مدد سے فٹبال بنانے کا عمل شروع کیا لیکن اس کی رفتار کافی سست ہونے کی وجہ سے بڑھتی ہوئی عالمی مانگ میں اس کا حصہ بہت کم رہا جس کی وجہ سے فٹبال کی صنعت کوبچانے کی فکر لاحق ہو گئی ۔پھر بجلی و گیس کے بحران نے پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ۔ ایک وقت یہ تھا کہ سیالکوٹ میں روزانہ چالیس سے پچاس غیر ملکی خریدار آیا کرتے تھے لیکن پھر یہ تعداد چار سے پانچ تک آ گئی ہے اور ہمیں غیر ملکی خریداروں سے ملاقات کے لیے دبئی جانا پڑتا تھا۔
2006ء کا ورلڈ کپ جرمنی میں ہوا ،تو اس میں سیالکوٹ کے ایک صنعتکار بھی شریک تھے۔وہاں لوگوں کا جوش و جذبہ، عقیدت اوررنگا رنگ کھیل تماشے دیکھ کر انہیں احساس ہوا کہ دنیائے فٹ بال میں ورلڈ کپ ہی اعلیٰ ترین مقابلے کی حیثیت رکھتا ہے۔تبھی انہوں نے تمنا کی کہ کاش کمپنی کے تیار کردہ فٹ بال اس لاجواب عالمی مقابلے میں بھی استعمال ہوں۔یوں نہ صرف کمپنی کا وقار بلند ہوتا،بلکہ سب سے بڑھ کردنیائے فٹ بال میں پاکستان اور پاکستانی قوم کو عزت و احترام سے دیکھا جاتا۔ چناں چہ فیفا کے نمائندے پاکستان آئے۔ گو انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا مگر پاکستانی صنعتکار نے ہمت نہ ہاری۔ انہوں نے فیفا انتظامیہ کو لکھا کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر تھرمل بائنڈنگ ٹیکنالوجی کی مشینوں والا نیا پلانٹ لگا دیں گے ،سو انہیں برازوکا تیار کرنے کا موقع دیا جائے۔فیفا اور ایڈیڈاس کے کار پردازوں نے پاکستانی صنعت کار کی پیشکش قبول کر لی۔ یہ بہت بڑا چیلنج تھا۔کیونکہ متذکرہ بالا پلانٹ لگانے میں کم از کم چھ ماہ لگتے تھے۔ادھر صرف ایک ماہ میں اسے لگانا تھا تاکہ برازو کا گیندوں کی تیاری کا کام فوراََ شروع ہو سکے۔ کارکن پھر دن رات کام میں مصروف رہے اور محض 33دنوں میں پلانٹ لگا کر چالو بھی کر دیا۔

2014ء میں فیفا کے عہدیداروں نے سٹار فٹبالروں، کرسٹانو رونالڈو، لیونل میسی، وائن رونی وغیرہ   برازوکا   نامی فٹ بال دکھایا تاکہ اسے برازیل میں ہونے والے فٹبال ورلڈکپ کے لئے فائنل کیا جاسکے ۔عہدے دار چاہتے تھے کہ مایہ ناز فٹبالر اس گیند سے کھیل کر اپنا اطمینان کر لیں۔ دراصل عالمی کپ 2010ء(جنوبی افریقہ)میں استعمال ہونے والے فٹبال   جابولانی   کو تقریباً سبھی نامور کھلاڑیوں نے ناپسند کیا تھا۔

وہ ایک بھدی،بھاری اور کھیلنے میں مشکل گیند قرار پائی تھی۔اسی لیے فیفا کے عہدے دار اب چاہتے تھے کہ وہ کھلاڑی برازوکا کو چھان پھٹک لیں تاکہ بعد میں واویلا جنم نہ لے۔ جابولانی گیند مشینوں کے ذریعے چین میں تیار ہوئی تھی۔ ورلڈ کپ 2014ء کے لیے بھی برازوکا تیار کرنے کا ٹھیکہ ایک چینی کمپنی کو ملا تھا۔تاہم کام زیادہ ہونے کے باعث کمپنی بیرونی کمپنیوں سے بھی مدد لیتی تھی۔ فیفا عہدیداروں پر انکشاف ہوا کہ چینی کمپنی میں کام بہت سست رفتاری سے جاری ہے۔یہ سن کر فیفا کے کارپرداز پریشان ہو گئے۔انھوں نے پھر ایڈیڈاس پہ زور ڈالا کہ وہ کسی اور کمپنی سے بھی برازوکا بنانے کا معاہدہ کرے۔سو ایڈیڈاس کے ماہرین نے فٹ بال بنانی والی بھارتی، تھائی، انڈونیشی اور پاکستانی کمپنیوں کے دورے کیے۔آخر کار سیالکوٹ میں واقع ایک پاکستانی کمپنی، فاروڈ کا انتخاب ہوا۔

اسی پاکستانی ادارے میں بنے برازوکا فٹ بال مشہور فٹبالروں کو دیا گیا تاکہ وہ گیند کو جانچ پرکھ سکیں۔ رونالڈو،میسی ،رونی وغیر نے میدان میں بھاگ دوڑ کر کے برازوکا کو دیکھا بھالا۔سبھی نے اسے بہترین فٹ بال قرار دیتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔حقیقت یہ ہے کہ ایڈیڈاس اور فیفا کے کارپرداز دیگر ممالک کے ہنرمندوں کی خراب کارکردگی کے باعث گھبرا کر اہل سیالکوٹ کی جانب پلٹے اور ان کی شاندار صلاحیتوں کا لوہا تسلیم کر لیا۔
جب لندن اولمپکس کا موقع آیا، تو فیفا نے فیصلہ کیا کہ اولمپک فٹ بال میچوں میں پاکستانی گیند استعمال ہو گی۔یوں ایڈیڈاس نے سیالکوٹ کے ہنرمندوں سے خصوصی فٹ بال تیار کرایا جسے ’’البرٹ ‘‘(The Albert) کا نام ملا۔اس گیند کو سبھی کھلاڑیوں نے پسند کیا۔یوں پاکستانی ہنرمند ایک بار پھر دنیائے فٹ بال میں نمایاں ہو گئے۔

اس حیات نو کا راز یہ ہے کہ اہل سیالکوٹ نے بھی فٹ بال ساز اداروں میں جدید مشینیں لگوا لیں۔چناں چہ کئی عشروں پہ محیط انسانی تجربے اور مشینی جدت کا انوکھا ملاپ ہوا،تو بہترین فٹ بال تخلیق ہونے لگے جنھیں ممتاز فٹبالروں نے سراہا۔ہوا یہ تھا کہ فٹ بال کی عالمی تنظیم، فیفا نے ورلڈ کپ 2014ء میں استعمال ہونے والی گیند، برازوکا تیار کرنے کا ٹھیکہ مشہور جرمن سپورٹس کمپنی،ایڈیڈاس کو دیا۔آرڈر بہت بڑا تھا سو جرمنوں نے آگے یہ کام ایک چینی کمپنی کو دے ڈالا جو کئی ہزار ملازم رکھتی ہے۔ چینی کمپنی کو یقین تھا کہ وہ بروقت آرڈر پورا کر دے گی مگر ایسا کرنے میں ناکام رہی۔ جب فیفا کو علم ہوا کہ چینی کمپنی وقت پر کام پورا نہیں کر سکتی تو وہ دیگر کمپنیوں کی طرف متوجہ ہوئے۔

آج کل ورلڈ کپ سمیت فٹ بال کے تمام عالمی و یورپی مقابلوں میں جدید ترین تکنیک تھرمل بائنڈنگ ٹیکنالوجی سے بنی گیندیں استعمال ہوتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی میں ایک فٹ بال تقریباً 80 مختلف مراحل سے گزر کر تیار ہوتا ہے تاکہ اسے مضبوطی اور پائیداری میں بے مثال بنایا جا سکے۔

پاکستانی ادارے میں تھرمل بائنڈنگ ٹیکنالوجی کی کچھ پرانی مشینیں نصب تھیں ،اسی لیے فیفا کے ماہرین نے کمپنی کو ٹھیکہ دینے سے انکار کر دیا۔کوئی اور ہوتا تو اس ناکامی پر ہمت ہار بیٹھتا مگر خواجہ مسعود نے اپنا عزم و حوصلہ جوان رکھا۔رفتہ رفتہ فٹ بال بنانے کے لیے بین الاقوامی کمپنیوں سے آرڈر ملنے لگے۔جلد ہی چوٹی کے یورپی فٹ مقابلوں چئمپینز لیگ برطانیہ، بوندیلگا، جرمنی، لیگ فرانس وغیرہ میں کمپنی کے تیار کردہ فٹ بال استعمال ہونے لگے۔اس امر نے کمپنی کو عالمی شہرت عطا کر ڈالی۔

تحریر : طیب رضا عابدی