چینی شہر ووہان کی لیبارٹری کی تصاویر نے دنیا کو تشویش میں مبتلا کردیا

چین کے شہر ووہان سے مبینہ طور پر  پھیلنے والے کورونا وائرس سے اب تک دنیا بھر میں 23 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جن میں سے ایک لاکھ 61 ہزار سے زائد افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق چینی سرکاری اخبار چائنہ ڈیلی نے 2018 میں ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائیرولوجی کی لیب کی تصاویر شائع کی تھیں جس میں 1500 اقسام کے مختلف وائرسز کے نمونے ٹوٹی ہوئی سیل والے ریفریجیریٹر میں رکھے گئے تھے۔

یہ وہی لیبارٹری ہے جو کہ ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ کے قریب واقع ہے اور خیال کیا جارہا ہے کہ کورونا وائرس اسی علاقے سے پھیلا ہے۔

گذشتہ کئی دنوں سے انٹرنیٹ پر ووہان کے انسٹی ٹیوٹ آف وائیرولوجی کی تصاویر وائرل ہورہی ہیں اور صارفین کی جانب سے مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔

اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکی حکومت لیب سے اس وائرس کے مبینہ اخراج کے معاملے پر تحقیقات کررہی ہے۔

‘چین کورونا وائرس پھیلاؤ کا ذمہ دار ہے تو نتائج ضرور بھگتے گا’

وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ اگر غلطی تھی تو غلطی، غلطی ہوتی ہے لیکن چین جانتے بوجھتے ہوئے ذمے دار ہے تو پھر یقینی طور پر اُس کے نتائج بھگتنے کے لیے اسے تیار رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 1917 کے بعد ایسی حالت کسی نے نہیں دیکھی، چین کی یہ غلطی تھی جو کنٹرول سے باہر ہو گئی یا جان بوجھ کر کیا گیا؟ دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔

جب کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ چین کو اس وائرس کے بارے میں جو کچھ معلوم ہے اس پر ٹھیک طریقے سے بتانا ہوگا۔