لاہور ہائیکورٹ میں 60 سال گزارنے والے ‘گوگل بابا’

(آئی این این نیوز)

یہ قصہ ہے اور نہ ہی کہانی، بات ہے اس شخص کی جس نے اپنی زندگی کے لگ بھگ 60 سال لاہور ہائیکورٹ کے نزدیک اخبار فروخت کرتے گزار دیے۔

ہائیکورٹ اور یہاں کے معاملات از بر ہونے کی بناء پر وکلا ان باہمت بزرگ کوگوگل بابا کہتے ہیں۔

بابا بشیر عرف گوگل بابا نے 1964 میں لاہور ہائیکورٹ کےقریب اخبار فروخت کرنے شروع کیے اور پھراسی جگہ کو روٹی روزی کا مسکن بنالیا۔

بابا بشیر اپنے اندر لاہورہائیکورٹ کی تاریخ سموئے ہوئے ہیں، اردگرد کی مشہور عمارتیں بنتی دیکھیں۔ تاریخی مقدمات کے فیصلوں کی گونج بھی سنی، ذوالفقار علی بھٹو،  بےنظیر بھٹو، نواز شریف کے دور میں یہیں رہے، 1965 اور 1971 کی جنگ کے دن بھی یہاں گزارے، کھیلتے کودتے بچوں کو وکیل، بار کے عہدیدار اور جج بنتے دیکھا۔

وکلاء اور ہائیکورٹ آنے والے دیگر افراد بابا بشیر سے عدالتوں اور جج صاحبان کے بارے رہنمائی بھی لیتے ہیں اور اسی وجہ سے انکا نام گوگل بابا پڑ گیا۔

ہائیکورٹ بار نے بابا بشیر کو ان کی جگہ پر پنکھے اور شیڈ کی سہولت فراہم کردی ہے، جبکہ ہائیکورٹ کے احاطے میں سائیکل لانے کی بھی اجازت ہے۔

بابا بشیر آج 72 سال کی عمر میں بھی محنت کی عظمت پر یقین رکھتے ہیں، کہتے ہیں محنت میں ہی عزت ہے۔