پکچر ابھی باقی ہے!

(آئی این این نیوز)

فلم کا پہلا حصہ اختتام پذیر ہونے کو ہے اور ابھی اس میں کئی سرپرائزس آنا باقی ہیں۔ اس فلم میں فلم بینوں کے لیے تمام مسالے موجود ہیں۔ سسپینس بھی ہے اور ایکشن بھی۔ وقفہ آنے سے پہلے 13 دسمبر کو اپوزیشن اپنا پورا زور آزمائے گی اور ان کی توجہ اس بات پر ہوگی کہ زیادہ سے زیادہ مجمع اکٹھا کیا جائے۔ اس کے بعد جیسے جیسے یہ فلم اپنے اختتام کی طرف بڑھے گی سب کی نظریں کلائمیکس پر مرکوز ہوں گی، جس کا مظاہرہ اپوزیشن جنوری کے آخر میں ڈی چوک پر کرے گی۔

سیاسی گرما گرمی اس وقت اپنے عروج پر ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ کورونا کی دوسری لہر بھی جاری ہے۔ لیکن ہمارے سیاست دانوں کے رویوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام مرے تو مرے لیکن “دا شو مسٹ گو آن”۔

بنیادی طور پر یہ فِقرا سرکس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جہاں کرتب دکھانے والے جوکرز کو اپنے ارد گرد کی پرواہ کیے بغیر شو جاری رکھنا ہوتا ہے۔ ہماری سیاست بھی اس وقت اسی طرح کے سرکس کا منظر پیش کر رہی ہے اور کورونا کی پرواہ کیے بغیر تمام فریقین اپنا اپنا کرتب دکھانے میں جٹے ہوئے ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے کورونا کی پہلی لہر کا مقابلہ اچھے سے کیا اور اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد تمام دنیا سے کافی کم تھی۔ اس کی وجہ ہماری پالیسیز تھیں یا ہماری قدرتی قوت مدافعت یہ ایک الگ بحث ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نہایت ہی تیزی سے پھیلتی ہوئی کورونا کی دوسری لہر میں داخل ہو چکے ہیں۔

تاریخ میں ہر شعبہ سے متعلق کئی سبق چھپے ہوتے ہیں۔ اسی طرح اگر 1918 میں پہلی جنگ عظیم کے دوران پھیلے ہوئے اسپینش فلو  کی تاریخ پڑھی جائے تو کورونا وائرس کی دوسری لہر کو سمجھنے میں یقیناً مدد حاصل ہو سکتی ہے۔

مارچ میں شروع ہونے والا یہ جان لیوا فلو اپریل، مئی، جون تک آگ کی طرح انگلینڈ، فرانس، اسپین اور اٹلی میں پھیل گیا۔ تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ اس کا پھیلاؤ جنگی سپاہیوں کی بڑی تعداد میں نکل و حرکت کی وجہ سے ہوا۔ کورونا وائرس کی طرح اسپینش فلو بھی موسم گرما میں اپنی اونچائیوں کو چھونے کے بعد زور توڑنے لگا۔ ہماری ہی طرح لوگوں نے یہ خیال کیا کہ اب اس سے چھٹکارا حاصل ہو گیا ہے لیکن یہ صرف طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔ اکتوبر میں جب اس کی دوسری لہر آئی تو وہ پہلے سے کئی زیادہ خطرناک اور جان لیوا ثابت ہوئی۔

امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کے اعداد و شمار کے مطابق اس وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پہلی جنگ عظیم میں مارے گئے تمام لوگوں سے بھی تجاوز کر گئی۔ تقریباً دنیا کا ایک تہائی حصہ یعنی 50 کروڑ افراد اس وبا سے متاثر ہوئے اور ہلاکتیں 5 کروڑ کے لگ بھگ ریکارڈ کی گئیں جس میں سے سب سے زیادہ اموات 1918 کے ستمبر، اکتوبر اور نومبر میں ہوئیں۔

امریکا میں مجموعی طور پر اُس وبا سے پونے 7 لاکھ افراد متاثر ہوئے جب کہ صرف دوسری لہر کے دوران صرف اکتوبر کے مہینے میں ہی ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً دو لاکھ تھی۔

پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس فروری 2020 میں آیا اور شروع میں اسپینش فلو  کی طرح اس دفعہ بھی لوگوں نے اسے معمولی سا فلُو سمجھا لیکن کچھ ہی عرصے میں اس نے اپنے اثرات دکھانا شروع کر دیے۔ اسپینش فلو کی طرح کورونا بھی گرمیوں تک اپنی اونچائیوں کو چھو کر زور توڑنے لگا اور ہم بھی بے فکر ہو کر آہستہ آہستہ معمولات زندگی کی طرف بڑھنے لگے، یہ نظر انداز کرتے ہوئے کہ تاریخ ہمیں ایسے وائرس کے بارے میں کیا سکھاتی ہے۔

اب ہم بھی دوسری لہر کا شکار ہیں لیکن عوام تو دور کی بات ہمارے لیڈران جن کو عوام نے ووٹ دے کر اپنا رہنما منتخب کیا تھا وہ اس کی شدت کو نظرانداز کرتے ہوئے سیاسی محاز آرائیوں میں مصروف ہیں۔

پاکستان میں اس وقت تقریباً روزانہ 3 ہزار کیسز ریکارڈ کیے جا رہے ہیں اور مثبت کیسز کی شرح تقریباً 10 فیصد ہے لیکن سیاست دانوں کی ترجیحات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بے احتیاطی کو لے کر الزام تراشیوں کا کھیل کھیل رہے ہیں۔

اگر حکومت نے اپنی سرگرمیوں کو کنٹرول کرکے ایک مثال قائم کی ہوتی تو آج صورت حال کافی مختلف ہوتی اور اپوزیشن کو جلسوں سے روکنا بھی آسان ہوتا۔ جس طرح پہلی جنگ عظیم کے دوران ہزاروں سپاہیوں کی نکل و حرکت کی وجہ سے اسپینش فلو پروان چڑھا کہیں ایسا نہ ہو کہ کورونا کی دوسری لہر کو پھیلانے کا ذمہ اپوزیشن کے جلسوں کے سر ہو۔