اِٹ کھڑکّا

(آئی این این نیوز)

تصادم ہو تو پنجابی اسے اِٹ کھڑکّا کہتے ہیں، ایک طرف اپوزیشن اور حکومت کا اِٹ کھڑکّا جاری ہے تو دوسری طرف اتحادیوں اور تحریک انصاف میں بھی اِٹ کھڑکے کا امکان ختم نہیں ہوا اور تو اور وفاقی کابینہ میں پورٹ فولیوز بدلنے سے اندر کی لڑائیاں اور اِٹ کھڑکّا بڑھنے کا اندیشہ دوچندہو گیا ہے۔

وزیراعظم گزشتہ دنوں لاہور میں چوہدری شجاعت حسین کی عیادت کے لیے آئے، مقصد ق لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان اِٹ کھڑکے کو ختم کرناتھا، چوہدری پرویز الٰہی اور خان کی ملاقات بڑی مفید رہی۔

وفاقی حکومت اور ق لیگ کے درمیان بڑی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا،مگر اس ملاقات کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب بزدار اور چوہدری پرویز الٰہی میں اِٹ کھڑکے کے حالات پیدا ہوگئے۔

اس ملاقات کے بعد اسپیکر چوہدری ، بزدار پر شدید ناراض ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم بزدار سے جو ملاقاتیں کرتے رہے اور جو جو باتیں کرتے رہے انہوں نے وزیراعظم کو وہ اس طرح سے نہیں بتائیں بلکہ تاثر اس کے الٹ دیا جس کی وجہ سے ق لیگ اور وزیراعظم خان کے درمیان غلط فہمیاں بڑھیں۔

بڑوں کی ملاقات میں کھل کر باتیں ہوئیں تو پتہ چلا کہ چوہدریوں کا معاملہ خراب کرنے میں وزیر اعلیٰ بزدار کا ہاتھ ہے حالانکہ چوہدری تو بزدار کی علانیہ حمایت کرتے رہے اور یہاں تک کہتے رہے کہ جب تک بزدار ہے ٹھیک ہے اگر بزدار کو ہٹایا گیا تو ہم یعنی چوہدری خود وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہوں گے۔

میری کل ہی وزیر اعلیٰ بزدار سے اتفاقی طور پر گورنر ہاؤس لاہور میں ملاقات ہوئی، میں نے ان کے اور چوہدریوں  کے درمیان پیدا ہونے والی نئی غلط فہمی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مسکر ا کر کہا سب ٹھیک ہو جائے گا۔

چوہدری پرویز الٰہی کا میرے مرحوم والد سے تعلق تھا،مجھ سے بھی ان کا خاص تعلق ہے میں جلد ہی مل کر غلط فہمی دور کر دوں گا۔

کہا جاتا ہے کہ چوہدری کافی عرصے سے پریشان تھے کہ وہ تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں مگر وزیراعظم خان ہر ملنے والے سے گلہ کرتے تھے کہ بے چارا بزدار صبح سے لے کر رات تک محنت کرتا ہے مگر 3 صوبائی وزیر، گورنر اور اسپیکر چوہدری ، بے چارے بزدار کو چلنے نہیں دے رہے۔

چوہدری پریشان تھے کہ ان کے بارے میں یہ کنفیوژن کون پیدا کر رہا ہے؟کہنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ خان اور چوہدری ملاقات میں کہیں یہ بات بھی کھل گئی ہے کہ بزدار چوہدریوں  کی حمایت سے مطمئن نہیں اور وہ اس حوالے سے خان کو مسلسل آگاہ کرتے رہے ہیں۔ اس انفارمیشن پر چوہدری سٹپٹا اٹھے ہیں کہ ان کی بے تحاشا اور اندھی حمایت کے باوجود بزدار نے ان کی خان سے شکایتیں کیوں کیں؟

یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ چوہدری خان سے ملاقات کے بعد مطمئن ہیں ان کے خلاف نیب میں جو کارروائیاں ہورہی تھیں، ان کو رکوانے کے لیے بھی کوششیں شروع ہو چکی ہیں البتہ دیکھنا ہوگا کہ بزدار اور چوہدری کے درمیان نئے اِٹ کھڑکے کا انجام کیا ہوگا؟

وفاقی کابینہ میں الٹ پھیر سے شیخ رشید کو وزیر داخلہ بنایا جانا ان کی نہ صرف صلاحیتوں کا اعتراف ہے بلکہ ان کی ترقی کے مترادف ہے، دوسری طرف اس فیصلے سے یہ بھی لگتا ہے کہ خان صاحب کو تحریک انصاف کے وفاقی وزرا ء میں کوئی ایسا نہیں ملا جسے وہ وزیر داخلہ کا عہدے دے سکیں۔

وفاقی دارالحکومت میں کافی عرصے سے یہ سرگوشی جاری تھی کہ وزیر داخلہ اعجاز شاہ بیمار ہیں اس لیے ان کی جگہ کوئی متحرک وفاقی وزیر داخلہ لایا جائے انہی سرگوشیوں کے مطابق فرینڈلی حلقے نے وزیراعظم خان کو پرویز خٹک اور چوہدری فواد حسین کے نام تجویز کیے تھے، تاہم وزیراعظم نے اپنی جماعت کے ان لوگوں کے حوالے سے سفارشات کو رد کرتے ہوئے شیخ رشید کو یہ عہدہ دیا ہے، ظاہر ہے اس فیصلے کے بعد پارٹی کے اندر کھینچا تانی اور اِٹ کھڑکا اور بڑھے گا۔

اصلی اور وڈاّ اِٹّ کھڑکاّ تو بہرحال اپوزیشن اور حکومت میں جاری ہے، مریم نواز کی بھرپور ریلیوں کے بعد اب حکومت دباؤ میں آگئی ہے اور موقر اطلاع کے مطابق دو وفاقی وزیروں نے اپوزیشن لیڈرز کو فون کرکے مذاکرات کا کہا ہے اور یہ پیغام بھی دیا ہے کہ اجتماعی استعفے نہ دیے جائیں۔

دوسری طرف اپوزیشن نے یہ صاف جواب دیا ہے کہ وزیر اعظم تو مذاکرات کے لیے تیار نہیں بلکہ وہ تو اپوزیشن کے خلاف بیان دے رہے ہیں، اس لیے مذاکرات بے سود ہوں گے۔

لاہور کا جلسہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے فیصلہ کن ہوگا مریم نواز نے ریلیاں کرکے کارکنوں کو متحرک کردیا ہے مگر کیا اس روز عام لاہوری بھی باہر نکلے گا؟ مسلم لیگ ن لاہور سے بھاری اکثریت سے جیتتی ہے مگر اس کا لاہور میں بڑا جلسہ کرنے کا ریکارڈ کوئی شاندار نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ن لیگ کا ووٹر بزنس مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے جو جلسے جلوس میں جانے کی تکلیف برداشت نہیں کرنا چاہتا۔

وہ پارٹی سے اپنا تعلق یہی سمجھتا ہے کہ الیکشن والے دن جاکر چپ چاپ ن لیگ کو ووٹ دیدے، ن لیگ لاہور کے جلسے میں اپنی اس روایت کو بدلنا چاہتی ہے مگر مینار پاکستان بھرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے پانچ لاکھ افراد آئیں تو تب کہیں مینار پاکستان کچھ بھرا ہوا لگے گا بہتر یہی ہوگا کہ ن لیگ ناصر باغ یا مال روڈ پر اپنا جلسہ کرے نہ مینار پاکستان کے پھول اور پودے خراب ہوں اور نہ ن لیگ کے لیے بہت بڑا سیاسی چیلنج بنے۔

جوں جوں لانگ مارچ کے دن قریب آ رہے ہیں تصادم اور اِٹّ کھڑے کا اندیشہ بڑھتا جا رہا ہے، بہتر ہو کہ حکومت اور اپوزیشن سیاسی حوالے سے لانگ مارچ سے پہلے ہی مذاکرات شروع کردیں اگر ان مذاکرات میں دیر ہوئی تو پھر اپوزیشن لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی، ایسی صورت میں مذاکرات پھر حکومت سے نہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ہوں گے۔

یاد رہے کہ عدلیہ والے لانگ مارچ میں بھی تیسرے فریق نےمداخلت کی تھی، جنرل کیانی نے خود اعتزاز احسن کو فون کرکے عدلیہ کی بحالی کا یقین دلایا تھا اور لانگ مارچ ختم کروایا تھا۔

خادم حسین رضوی کی جماعت تحریک لبیک سے بھی مذاکرات اسٹیبلشمنٹ کو کرنے پڑے تھے اور تو اور خود عمران خان نے دھرنے کے دوران جنرل راحیل شریف سے مذاکرات کیے تھے۔

حکومت کو چاہیے کہ معاملہ ایسی صورت حال تک پہنچنے سے پہلے ہی اپوزیشن کو مذاکرات کے لیے بلا ئے،لیکن ظاہر ہے کہ اس کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کرنے ہوں گے اگر حکومت اپنی ضد پر اڑی رہی، اپوزیشن کو رعایت نہ دی تو معاملہ تیزی سے اِٹّ کھڑکے کی طرف بڑھے گا۔ پہلے سیاسی اور پھر معاشی استحکام خراب ہوگا حتمی نقصان ریاست اور عوام ہی کا ہوگا…..