خطرے میں عمران نہیں، عوام

(آئی این این نیوز)

آج مینار پاکستان پر اپوزیشن کا جلسہ ہے، اللہ خیر کرے، کورونا کا کوئی مریض بھی خودکش حملہ آور سے کم نہیں ثابت ہوگا اورلاہور میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد پاکستان کے تمام شہروں سے زیادہ ہے۔

ایک سازش کی افواہ بھی پھیلی ہوئی ہےکہ اپوزیشن کی جماعتوں میں سے ایک جماعت کے کچھ لوگ انتقام میں اندھے ہوکر کورونا کے کچھ مریض جلسہ گاہ لے جانا چاہتے ہیں کہ حکومت پر الزام لگایا جاسکے کہ حکومت جلسے میں شرکت کرنے والوں میں کورونا پھیلانا چاہتی تھی۔

انٹیلی جنس کی رپورٹس کہہ رہی ہیں کہ اس جلسے میں دہشت گردی کا خطرہ ہے کہ شاہدرہ سے گرفتار شدہ دہشت گردوں کا ٹارگٹ یہی جلسہ تھااور ابھی تک ان کا پورا نیٹ ورک نہیں گرفتار کیا جاسکا۔

کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ جلسہ گاہ میں ایسے پانی کا اسپرے کیا جا رہا ہے جس میں کورونا کے جراثیم ملے ہوئے تھے، پیشین گوئی کی جارہی ہے کہ اس جلسہ کےبعد فوری طور پر لاہور میں کورونا کے مریضوں کی تعداد دوگنا ہوجائے گی۔

اپوزیشن کے خیال میں یہ ساری افواہیں اس لیے پھیلائی جارہی ہیں کہ لاہور کے عوام کورونا کے خوف سے جلسے میں شریک نہ ہوں، لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ خدانخواستہ ایک آدھا مریض جلسہ میں آ گیا تو تباہی پھیل سکتی ہے۔

دنیا میں کورونا وائرس کے سبب 16 لاکھ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، پاکستان میں بھی اموات کا سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، آج پاکستان میں 171 افراد ہلاک ہوئے اور تقریباً 2500 فراد کی حالت تشویشناک ہے۔

ڈر رہا ہوں کہ اگر اپوزیشن کی تحریک اور کورونا آپس میں مل گئے تو تباہی بہت خوفناک ہو جائے گی، عمران خان نے ٹھیک کہاکہ ’’جلسوں سے مجھے نہیں عوام کو خطرہ ہے‘‘۔

کون نہیں جانتا کہ جب تک اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے ساتھ ہے اس کی حکومت کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں، اگر اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو چھوڑ دے توپھر اپوزیشن کو نہ جلسے جلوسوں کی ضرورت ہے نہ استعفوں کی، قومی اسمبلی میں ایک ہی تحریک عدم ِ اعتماد کافی ہے۔

لہٰذا سچ یہی کہ اپوزیشن ہوا میں تیر چلا رہی ہے، شریف فیملی اپنے مقدمات کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش میں ہے، مولانا فضل الرحمٰن شریکِ اقتدار ہونا چاہتے ہیں، پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنے آپ کو زندہ کرنے کی کوشش میں اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں ہے، استعفیٰ استعفیٰ کا کھیل صرف نون لیگ کھیلنا چاہتی ہے مگر اسے اندازہ نہیں کہ اس کے کتنے ایم پی ایز اور ایم این ایز حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

پچھلے دو ہفتوں میں پنجاب میں کم از کم دو درجن ایم پی ایز عثمان بزدار سے ملاقات کرچکے ہیں، فارورڈ گروپ بنانے کےلئے قانونی مشاورت بھی ہو چکی ہے، مرکز کی صورتحال تھوڑی مختلف ہے مگروہاں عجیب و غریب فارورڈ گروپ بننے جارہا ہے جس میں کئی پارٹیوں کے ایم این ایز شامل ہو سکتے ہیں۔

دونوں مقامات پر یہ گروپ اشارہ ِ ابرو کے منتظر ہیں، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی کہا ہے :نون لیگی اراکین اسمبلی وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ سے رابطے میں ہیں، نون لیگ کے ممبران ہچکولے کھاتی کشتی سے چھلانگیں لگانے والے ہیں۔

دوسری طرف شیخ رشید کو وزیر داخلہ بنانے کا مطلب واضح طور پر یہی ہے کہ داخلہ کے معاملات مکمل طور پر اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کر دیے گئے ہیں، نون لیگ کو اس بات پر بہت اعتراض ہے، نون لیگ کے رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف کو باقاعدہ بیان دیناپڑا کہ’’حکومت شیخ رشید جیسے شخص سے اپوزیشن کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے‘ یہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہوگا۔‘‘

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اپوزیشن کا کورونا کی صورتحال میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اصل مقصد صرف یہی ہےکہ اب ان سے اپنی پارٹیوں کے ارکان اسمبلی نہیں سنبھالے جارہے اس سے پہلے کہ وہ حکومت کے ساتھ مل جائیں انہیں حکومت کے خاتمہ کی کوئی نوید سنائی جائے تاکہ وہ پارٹی میں موجود رہیں۔

امکان ہے کہ آج کے جلسے میں اگر نوازشریف نے دوبارہ وہی تقریر کی جو پچھلی مرتبہ کی تھی اور اسٹیبلشمنٹ کی سب سے بڑی شخصیت سے استعفیٰ مانگاتھا تو پیپلز پارٹی اتحاد سےعلیحدہ ہوجائے گی۔

پیپلز پارٹی وہ باریک لائن نہیں کراس کرنا چاہتی ،جس کے بعداقتدار میں واپسی ممکن نہیں رہتی،جسے نواز شریف کراس کر چکے ہیں، مریم نواز کے قصیدہ نگار واضح الفاظ میں لکھ رہے ہیں کہ ’’مریم نواز نے وہ کام کیا جو کم لوگ کرسکے، جس نے کیا، وہ پھانسی چڑھا یا جیل گیا۔

مریم نواز نے جانتے بوجھتے اس پُرخطر راستے کا انتخاب کیا، محض وزیراعظم کا تاج سر پر رکھنے کی خواہش پالنے والے اس کا حوصلہ نہیں کرسکتے،‘‘یعنی مریم نواز کی جنگ اسٹیبلشمنٹ سے ہے، ہارون الرشید نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے’’کبھی اگر مریم نواز وزیراعظم بن گئیں تو آپ سارے حکمرانوں کو بھول جائینگے،مریم میں نفرت اور انتقام کے سوا کچھ نہیں ‘‘۔

گیارہ جماعتی پی ڈی ایم میں پارٹیاں صرف دوہیں ۔پیپلز پارٹی اور نون لیگ اور دونوں کے حالات زیادہ بہتر نہیں،کرپشن کے الزامات کی وجہ سے دونوں کی عوامی پذیرائی میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔پی ڈی ایم کے خیال میں چونکہ عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں اس لئے ان کی حکومت مخالف تحریک کامیاب ہو جائے گی مگردیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ حکومت مہنگائی پر کنٹرول کرتی جارہی ہے، سو لاہور کےجلسہ کی کامیابی خاصی مشکوک ہے ۔