پیٹرول بحران تحقیقاتی کمیشن نے سیکرٹری پیٹرولیم اور ڈی جی آئل کو قصور وار ٹھہرادیا

(آئی این این نیوز)

پیٹرول کی قلت پر بنائے گئے پیٹرولیم کمیشن کی تحقیقات میں سیکرٹری پیٹرولیم اور ڈی جی آئل کو قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔

انکوائری کمیشن کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئل غیر قانونی طور پر کوٹہ مختص کرنے میں ملوث ہیں، ان کے علاوہ سیکرٹری پیٹرولیم کے بحران میں کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیاجا سکتا، کمیشن نے دونوں کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی ہے۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پیٹرول بحران کی بڑی وجہ تیل کی درآمدات پر پابندی بھی تھی،پیٹرول عالمی مارکیٹ میں سستا ہوا تو پابندی کی سفارش کی گئی، مئی اورجون میں پیٹرول خریدا گیا تاہم اس کی سپلائی روک دی گئی، حکومت کی جانب سے قیمتیں بڑھانےتک کمپنیوں نے تیل کی سپلائی روک دی۔

 انکوائری کمیشن نے بعض مارکیٹنگ کمپنیوں کے لائسنس کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ کمپنیوں کے پاس آئل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہے،20 دن تک تیل ذخیرہ نہ کرنےکی مجرمانہ غفلت کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا،کمپنیوں سے 20 دن تک تیل ذخیرہ نہ کروانا آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی ناکامی ہے۔

کمیشن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل15دن کی بجائے30دن میں کرنےکی سفارش کردی ہے اور وزارت پیٹرولیم میں مانیٹرنگ سیل قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ کمپنیوں سے روزانہ اورماہانہ بنیادوں پر ذخیرے سے متعلق ڈیٹا حاصل کیا جائے۔

رپورٹ میں کمیشن کی جانب سے اوگرا کو تحلیل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ 6مہینوں میں قانون سازی کرکے اوگرا کو تحلیل کیا جائے۔

خیال رہے کہ رواں سال یکم جون کو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد سے پیٹرول نایاب ہوگیا تھا اور دوبارہ قیمتوں میں اضافے تک پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی قلت رہی۔

پیٹرولیم بحران کی تحقیقات کے لیے 7 رکنی انکوائری کمیشن بنایاگیا تھا جس کی سربراہی ایڈیشل ڈی جی ایف آئی اے ابوبکر خدابخش کررہے تھے جب کہ کمیشن اراکین میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان، ڈپٹی ڈی جی آئی بی رومیل اکرم، ایف آئی اے کے ڈائریکٹر ساجد اکرم،سابق ڈی جی آئل راشد فاروق اور پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان سے عاصم مرتضٰی بھی انکوائری کمیشن ارکان میں شامل تھے۔

وزیر اعظم کے عمران خان کے مشیر برائے احتساب و داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ ‏وفاق کے حکم پر قائم پیٹرولیم کمیشن کی رپورٹ وزیراعظم کو موصول ہوگئی اور وزیراعظم کے حکم کے مطابق رپورٹ کل کابینہ میں پیش کی جائے گی۔