لاہور جلسہ کامیاب ہوا یا ناکام: مذاکرات کی ضرورت کسے ہے؟

(آئی این این نیوز)

آر یا پار کے شور، شرکاء کی تعداد کے بارے میں جوڑ توڑ، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر ترجمانوں اور رہنماؤں کی نوک جھونک میں لاہور کا ’’تاریخی‘‘ جلسہ بہرحال گزر گیا۔

لاہور ن لیگ کا سیاسی گڑھ تھا اور ہے لیکن اس شہر نے ماضی میں کئی دیگر جماعتوں کو اچھے اجتماع دیے ہیں جو یہاں کے باسیوں کی وسیع القلبی کا ثبوت ہے۔ پی ڈی ایم خصوصاً ن لیگ نے اس جلسے سے پہلے شہر میں ماحول بنانے کی کوشش کی اور کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔

جلسے کے دن بھی دونوں طرف کے رہنماؤں اور ان کے حامیوں نے خوب رنگ جمائے رکھا، میڈیا بھی پیچھے نہیں رہا، ایاز صادق کے ظہرانے کے مینیو سے مریم نواز کے کنٹینر کی آرائش تک ہراندر کی بات مسلسل سامنے لایا۔ کہتے ہیں پاکستانی سیاست میں کوئی دن عام نہیں ہوتا اور یہ تو پھر ایک خاص دن تھا۔

 خیر اس سب میں جو دبی رہی وہ بچارے کرونا کی آواز تھی۔ نہ جانے وہ دن کب آئے گا جب حکومت اور اپوزیشن محض پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے اس خطرے کو بھی سنجیدگی سے لیں گے۔

اگر سیاسی اہمیت کی بات کی جائے تو اس جلسے میں اپوزیشن کی جانب سے بڑے اعلانات اور ایکشن کی توقع کی جارہی تھی۔ حکومتی ترجمانوں کی کئی دنوں سے جاری بے چینی بھی یہی بتا رہی تھی کہ شاید وہ بھی کسی ایسی ہی خبر کو بھانپ چکے ہیں لیکن ایک ڈیڑھ ماہ بعد استعفوں اور مارچ کے ڈھیلے ڈھالے اعلانات کے علاوہ کچھ زیادہ سامنے نہ آ سکا۔

استعفوں کے لیے اکتیس جنوری کی واضح تاریخ دینے کےلیے بھی جلسے کے بعد ایک بجھی بجھی پریس کانفرنس کرنا پڑی۔ لاہور جلسے میں اپوزیشن کے رہنماؤں کی گھن گرج کا جواب حکومتی ترجمان ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دیتے رہے ۔ عوام جمع کرنے کا جو شورو غلغلہ حزب اختلاف نے ہفتوں سے بپا کررکھا تھا اس حساب سے یہ جلسہ اتنا زیادہ کامیاب نہ تھا۔ لیکن اس کے باوجود دونوں ہی جانب سے جلسے کے شرکا کو غیر معمولی حد تک بڑھانے یا گھٹانے کی کوششیں بھی جاری رہیں، جس سے اطراف کی سوشل میڈیائی ٹیموں کا کاروباررات گئے تک خوب گرم رہا۔

ویسے جلسے کی گرما گرمی سے قطع نظر ذرا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو پیپلز پارٹی، ن لیگ اور مولانا کی حکمت عملیوں کا فرق واضح ہو جاتا ہے جو بظاہر ایک مقصد کے حصول کے لیے ساتھ تو ہیں لیکن انفرادی سیاسی بازیگری بھی خوب دکھا رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے دو قدم آگے اور ایک قدم پیچھے کی اسٹریٹجی ابھی بھی جاری ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کے کم ازکم پیپلزپارٹی جذبات میں آ کر جلد کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھانے والی۔ اگر لے جا سکے تو وہ کوئی بھی آخری داؤ لگانے سے قبل کھیل کو حتمی راؤنڈ تک ضرور لے جائیں گے اور یہی وہ ایک نکتہ ہے جس کو لے کر حکومتی وزراء پی ڈی ایم کے باہمی اتحاد کی ممکنہ کمزوری کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔

 اپوزیشن اتحاد کے سربراہ کے طور پر مولانا کی اننگز  بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ان کی پوری کوشش ہے کہ وہ اپنے سیاسی پتے سینے سے لگائے رکھیں اور کسی کو یہ پتہ نہ چلے کہ ان کے دل ودماغ میں کیا چل رہا ہے۔ مولانا نے گذشتہ لانگ مارچ بڑے دبنگ انداز سے شروع اور بڑے ٹھنڈے انداز سے ختم کیا تھا، حالانکہ ان کے ساتھ ان کے کارکنوں کی بڑی تعداد تھی۔

— رائٹرز فوٹو

وہ اس معاملے پراپنے ساتھ ہوئے دھوکے کا گلہ بھی اکثر کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے سیاسی کیریئر پر ایک اور ناکام لانگ مارچ کا دھبہ نہیں لگنے دیں گے یا کم از کم ایک واضح برتری لے کر واپس جانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ جلسے جلوسوں میں لوگوں کو اکٹھا کرنا اور بات ہے لیکن اگر آنے والے دنوں میں نوبت لانگ مارچ یا دھرنے تک آگئی تو مولانا اور ان کے کارکن تحریک کا سب سے اہم عنصر ثابت ہوسکتے ہیں۔

 مریم نواز اور ان کے والد کی جانب سے ہر طرف تابڑ توڑ حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ نامسائد حالات میں یہ ن لیگ کا بیانیہ پھیلانے میں بظاہر کامیاب نظر آتے ہیں۔ شریف خاندان اور اس کے سیاسی داؤ پیچ اب ہر نظر میں ہیں۔ اعصاب کی جنگ میں وہ اپنے حریفوں پر حاوی ہونے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں لیکن کسی بھی مقصد کے حصول کے لیے انھیں ہر موڑ پر مولانا اور پیپلز پارٹی کی مدد درکار ہو گی جو ایک نہایت مشکل امر ہے۔ ان کی جانب سے اپنے مخالفین پر ہر طرح سے مسلسل دباؤ بڑھایا جا رہا ہے جو جاری رہا تو حالات ’’میک اور بریک‘‘ کی جانب تیزی سے جا سکتے ہیں اور اسی بات پر ن لیگ کا فوکس دکھائی بھی دے رہا ہے۔

ان تمام حالات میں حکومت کی کوئی بڑی سیاسی پیش قدمی نظر نہیں آرہی جو کہ اس کی سیاسی قیادت کی ناکامی ہے۔ اپوزیشن ہر دور میں سیاسی محاذ گرم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں، ان کوششوں کو اپنی چالوں سے ناکام بنانا حکومتوں کا کام ہوتا ہے لیکن اس وقت حکومتی صفوں میں (ایک حد تک فواد چوہدری کے علاوہ) ایسا کوئی رہنما نظر نہیں آتا جس کو اپوزیشن کے معاملات ٹھنڈے رکھنے سے دلچسپی ہو۔

حکومت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی فساد نہ بھی ہو ملک میں سیاسی افراتفری اور ہیجانی کیفیت سے معاشی و دیگر سرگرمیوں کا بہت نقصان ہوتا ہے جس بنا پرحکومتیں ہمیشہ کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی کے لیے تیار رہتی ہیں۔

معاملات ابھی پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہیں پہنچے ہیں اور پہنچ بھی جائیں تو ہمیشہ ڈائیلاگ ہی آخری راستہ ہوتا ہے لیکن حکومت کویہ سوچنا چاہیے کہ آخری مرحلے میں ڈائیلاگ سے ان کی ’’بارگیننگ پاور‘‘ کم بھی ہو سکتی ہے اور ان کے اپنے حواریوں کے لیے مسلسل بوجھ بننے کا تاثر بھی گہرا ہو سکتا ہے۔

 مہنگائی کی جاری لہر، کرپشن و نااہلی کے پے در پے الزامات، معاشی معاملات میں بہتری کی بڑی گنجائش اور پی ٹی آئی کے حکومت میں آنے سے پہلے کے بلند و بانگ دعوے اب حکومت کے پاؤں کی بیڑیاں بن چکے ہیں۔ بڑا بن کر مذاکرات کا ڈول ڈالنا ہے تو شاید یہی وقت ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا، دونوں پرحکومت کو ہی اعتدال کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اگر متحدہ اپوزیشن فروری تک استعفوں اور اسلام آباد کے قلب میں پڑاؤ ڈالنے میں کامیاب ہو گئی تو حالات ہفتوں یا دنوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں اور منٹوں میں تبدیل ہوں گے اور اس وقت انھیں سنبھالنا شاید حکومت کے بس میں نہ ہوگا۔