اسرائیل، بھارت اور ہم

(آئی این این نیوز)

اِس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے کہ عرب ممالک میں کس کس نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا اور کیوں تسلیم کیا ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ملک اپنے مفادات اور بعض دیگر وجوہات کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرتا ہے کہ کس ملک کے ساتھ کیا تعلقات رکھنا ہیں۔ 

ہمیں تو اپنا سوچنا چاہئے لیکن بدقسمتی سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے معاملے کو بھی سیاسی مسئلہ اِس طرح بنایا جا رہا ہے کہ کچھ دنوں سے دیگر غیراہم معاملات کی طرح اِس بات کو بھی ایشو بنایا جا رہا ہے کہ چند ہفتے قبل ایک حکومتی مشیر نے اسرائیل کا خفیہ دورہ کیا ہے اور وہاں اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ یہ شوشہ ایک اسرائیل نواز صحافی نے چھوڑا ہے جس کو اسرائیلی اخبارات نے اہمیت کے ساتھ شائع کیا ہے۔ یہ خبر سراسر جھوٹ پر مبنی ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ یہ ایک منظم سازش ہے۔ جس کا مقصد پاکستان میں مذہبی اور سیاسی افراتفری پھیلانا ہے، اِس طرح کی باتیں پہلے بھی کئی بار ہو چکی ہیں۔ جو غلط اور جھوٹ ثابت ہوئیں۔

اگر پاکستان ایسا ارادہ رکھتا تو کیا وہ خفیہ رہتا؟ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی ایک اہم معاملہ ہے۔ حکومتی مشیر کے دورے سے تعلقات کی بحالی یا اُس کی راہ ہموار کرنے کی سوچ نہایت احمقانہ ہے۔ یہ تو فیصلہ سازوں کا کام ہے اور ہر سطح پر مشاورت کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ اور اگر اِس طرح کا کوئی فیصلہ ہوتا ہے تو قوم کو معلوم ہوگا۔ یہ بند کمرے کے اندر کا فیصلہ نہیں ہے نہ ہی کسی کی ذات سے منسلک ہے۔ اِس لئے ملک میں شکوک و شبہات پھیلانے اور غیرضروری بحث سے گریز کرنا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان نے تو اِس بارے میں متعدد بار واضح کیا ہے کہ نہ تو پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے، نہ ہی وہاں کوئی دورے پر گیا ہے۔ پاکستان کی وضاحت کے بعد اب اِس بےمقصد بحث کو بند کر دینا چاہئے اور قوم کو منتشر کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔

آج کل نان ایشوز کو ایشوز بنانے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور اہم معاملات کو پس پشت ڈال کر قوم کو غیرضروری بحث میں اُلجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آج کل سینیٹ کے الیکشن کو بھی ایشو بنایا گیا ہے کہ سینیٹ کے الیکشن کب ہوں گے؟ طریقہ کار کیا ہوگا؟ یہ قطعی طور پر سیاستدانوں کے مفادات کا معاملہ ہے اور اُنہوں نے ہی حل کرنا ہے۔ آخر حکومت کو کیا جلدی ہے کہ مارچ کے بجائے فروری میں انتخابات ہوں۔ ایک ماہ پہلے انتخابات کا ملک اور قوم کو کیا فائدہ ہے؟ اور اگر مارچ میں مقررہ وقت پر ہی ہوں تو ملک و قوم کا کیا نقصان ہے؟ آئینی طور پر سینیٹ کے انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔ بصورت دیگر اُس کیلئے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی۔ یہ بات حکومت اور اپوزیشن دونوں بخوبی جانتی ہیں اُس کے باوجود دونوں اِس بحث میں پڑے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہی ہیں اور اصل ایشوز کو پس پشت ڈال رہی ہیں۔ کوئی بھی اصل مسائل کی طرف توجہ نہیں دے رہا۔

کوئی ایک عوامی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس پرحکومت نے مکمل توجہ دے کر حل کر لیا ہو نہ ہی اپوزیشن نے حکومت پر کسی بھی عوامی مسئلہ کے حل کیلئے دباؤ ڈالا ہو۔ کیا اپوزیشن نے ملک میں بڑھتی ہوئی کمر توڑ مہنگائی کے خلاف ایک ریلی بھی نکالی؟ دوسری طرف حکومت کو گرانے اور نئے انتخابات کرانے کیلئے جلسے کر رہی ہے۔ اِن جلسوں میں جو تقاریر ہوتی ہیں اُن کا لب لباب کیا ہوتا ہے، سب جانتے ہیں۔ حکومت کا بھی یہی حال ہے کہ آئے روز ایک نیا ایشو، نئے بیانات اور وہی چور چور کی گردان۔ پہلے کچھ عرصہ سے نواز شریف کو واپس لا رہے ہیں کہ فلاں مہینے وہ پاکستان میں ہوں گے، وغیرہ وغیرہ۔ اب وہی بات جو ہم نے نواز شریف کو واپس لانے کے شور و غوغا کے دوران کالم میں تحریر کی تھی کہ ابھی نواز شریف کی واپسی نظر نہیں آتی۔ اب وہی بات حکومت کر رہی ہے۔ بس آئے روز ایشو بنانا مقصود ہوتا ہے اور حکومت عوامی مسائل کے حل کے بجائے ایشوز پر وقت ضائع کرتی ہے اور پھر وہی یوٹرن۔

کوئی یہ نہیں سوچتا، خواہ حکومت والے ہیں یا اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے کہ جن کی وجہ سے وہ لیڈر بنے بیٹھے ہیں، وہ بیچارے کن مشکلات سے دو چار ہیں۔ مہنگائی، بےروزگاری اور غربت کس سطح پر پہنچ گئی ہے۔ غریب خطِ غربت سے کتنا نیچے گر چکا ہے۔ گیس، بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات، روزمرہ کے استعمال کی ضروری اشیاء کی قیمتیں روز بروز بڑھ کر کہاں پہنچ گئی ہیں۔ ایک غریب آدمی کس طرح یہ قیدِ زندگی کاٹ رہا ہے مگر حکومت اور اپوزیشن کے رہنما اور نام نہاد ’’جمہوریت‘‘ کے علمبرداروں کو عام آدمی اُس وقت یاد آئے گا جب اُن کو اِس کی ’’ضرورت‘‘ پڑے گی۔ حکومت اور اپوزیشن کے رہنماؤں کو تو یہ بھی احساس نہیں ہے کہ سرحدوں پر کیا صورت حال ہے۔ اندرونی اور بیرونی طور پر ملک کن خطرات اور سازشوں کا شکار ہے۔ اندرونی طور پر امن و امان کی صورت حال کتنی مخدوش ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان دشمن ملک کے اندر کیا کیا جال بچھا رہے ہیں۔ بھارت سی پیک کو سبوتاژ کرنے اور پاکستان میں بدامنی، افراتفری اور منافرت پھیلانے کے کیا کیا منصوبے تیار کر رہا ہے۔ مودی سرکار بھارتی عوام کی وہاں کی ناگفتہ بہ صورتحال اور چین سے ہزیمت اُٹھانے سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کے خلاف کوئی بھی بےوقوفانہ حرکت کی تیاری کر رہا ہے۔ کیا اِن معاملات کی طرف کسی کی توجہ ہے؟

تبدیلی آنے والی ہے۔ اب یہ تماشے زیادہ عرصہ چلنے والے نہیں ہیں۔ بس انتظار کریں اور دیکھیں کہ تبدیلی کیسے اور کب آتی ہے۔ قوم مایوس نہ ہو۔