پیوٹن نے سابق صدور کے لیے تاحیات استثنیٰ کے بل پر دستخط کردیے

ماسکو: روسی صدر پیوٹن نے سابق صدور کے لیے تاحیات استثنیٰ کے بل پر دستخط کردیے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر پیوٹن نے سابق روسی صدور کو تاحیات مقدمات سے بچانے کے لیے استثنیٰ کے بل پر دستخط کیے جس کے تحت سابق صدور کو ایک مرتبہ صدارت چھوڑنے کے بعد تاحیات ایوان بالا کا رکن بننے کی بھی اجازت ہوگی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ نیا قانون رواں سال صدر پیوٹن کی جانب سے ملک میں کی گئی سیاسی اصلاحات کے اقدامات کا حصہ ہے جن کے تحت صدر پیوٹن کو یہ اجازت ہے کہ اگر وہ چاہیں تو مزید دو مرتبہ 6 سالہ مدت کے لیے صدر رہ سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ یہ قانون سازی اس آئینی ترامیم کا حصہ ہے جو رواں برس ملک میں ووٹنگ کے ذریعے منظور کی گئی اور اسی کے ذریعے صدر پیوٹن کو 2036 تک صدر رہنے کا اختیار حاصل ہے، بصورت دیگر ان کے لیے 2024 میں عہدہ صدارت چھوڑنا ضروری تھا۔

غیر ملکی میڈیا کا بتانا ہےکہ سابق روسی صدور کو پہلے ہی صدارت کے دوران مقدمے بازیوں سے استثنیٰ حاصل ہے البتہ نیا قانون انہیں تاحیات اس سے استثنیٰ فراہم کرے گا اور اس کے تحت ان کی گرفتاری، تلاشی اور تفتیش بھی ممکن نہیں۔