سرفراز نواز کے بھی وسیم اکرم پر میچ فکسنگ کے الزامات

لاہور (  آ ئی این این
نیوز) 90 کی دہائی کے کرکٹ فکسنگ اسکینڈل کے حوالے سے انکشافات کا سلسلہ جاری ہے ، سابق اسٹ باؤلر سرفراز نواز نے  نے سوئنگ ماسٹر وسیم اکرم پر میچ فکسنگ کے الزامات عائد کر دیے ۔

میچ فکسنگ  نے پچھلے کئی  برسوں میں پاکستان کرکٹ کے چہرے کو بار بار داغ دار کیا  ،سابق کپتان سلیم ملک نے چند روز قبل اس حوالے سے بیانات دیکر پنڈورا باکس کھولا جس میں روز نئے نئے انکشافات ہورہے ہیں۔

سرفراز نواز کا کہنا تھا کہ پی سی بی میں  جوا گروپ کو  اہم عہدوں سے ہٹایا جائے  اور اچھے لوگوں کو لایا جائے  ۔ 1999 کے  ورلڈکپ میں بنگلہ دیش کے ساتھ   پاکستان کا میچ فکس تھا، اس وقت کے کپتان   وسیم اکرم پر  پابندی لگا دی جاتی تو حالات مختلف ہوتے۔

سرفراز نواز نے کہا سیف الرحمن کمیشن  میں بھی وسیم اکرم نے آمدن سے زائد اثاثوں کا اعتراف کیا ، انہو ں نے  سابق چئیرمین   پی سی بی خالد محمود کے اس  بیان کا حوالہ دیا کہ وسیم اکرم کو اس لیے چھوڑا کیونکہ وہ بڑا کھلاڑی  تھا۔

سرفراز نواز نے الزام لگایا کہ سابق فاسٹ باؤلر عطاالرحمان کو وسیم اکرم نے میچ فکس کرنے کے عوض تین لاکھ روپے کی رشوت آفر کی تھی۔

جسٹس ملک محمد قیوم کمیشن نے میچ فکسنگ کی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد سابق کپتان سلیم ملک اور فاسٹ باؤلر عطا الرحمن پر تاحیات پابندی کی سفارش کی تھی جبکہ وسیم اکرم کو شک کا فائدہ دیا گیا اور کپتانی سے ہٹانے کی سفارش کے ساتھ جرمانہ کیا گیا ۔

دیگر کھلاڑیوں  مشتاق احمد، عطا الرحمن، وقاریونس، انضمام الحق، اکرم رضا اور سعید انور پر بھی جرمانے عائد کیے گئے تھے۔