’برطانیہ سے کورونا کی نئی قسم پاکستان آنے کے کوئی سائنسی شواہد نہیں‘

(آئی این این نیوز)

اسلام آباد: پارلیمانی سیکرٹری صحت نے بھی سائنسی شواہد کی بنیاد پر کورونا کی نئی قسم کی پاکستان میں موجودگی کی تردید کردی۔

جیو نیوز کے پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتےہوئے پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ ابھی سائنسی شواہد نہیں کہ برطانیہ سے کوروناکا وائرس پاکستان آیاہو، حالیہ دنوں میں برطانیہ سے آئے افرادکا ڈیٹا مقامی انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنرزکو دے دیا گیا ہے، برطانیہ سے آئے افرادکو ٹریس کرکے ٹیسٹ کیا جارہا ہے، بہت سارےلوگ ٹریس ہوگئے ہیں اور ان کےٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔

ویکسین سےمتعلق انہوں نے بتایا کہ کورونا ویکسین حکومت منگوائے گی جس کے لیے 150 ملین ڈالر مختص کیے ہیں، ویکسین محکمہ صحت کے پروفیشنلز کو مفت لگائی جائے گی جب کہ حکومت جو ویکسین منگوائے گی وہ عوام کو بھی بالکل مفت دی جائے گی۔

نوشین حامد کا کہنا تھا کہ پرائیوٹ سیکٹر کو بھی ویکسین منگوانے کی اجازت دی گئی ہے، پرائیوٹ سیکٹرکے ذریعےمنگوائی گئی ویکسین بھی کم دام میں ملے گی۔

پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ ویکسین سازکمپنیوں کا اندازہ یہی ہے کہ ویکسین وائرس کی نئی شکل پربھی مؤثر ہوگی۔