پاکستان اور عرب ممالک کے تعلقات

پاکستان اور عرب ممالک کے درمیان صرف ملکوں کے تعلقات نہیں بلکہ یہ پاکستان اور عرب ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات ہیں۔ ان تعلقات کو نہ تو کمزور کیا جاسکتا ہے نہ ہی نظرانداز لیکن بدقسمتی سے آج کل ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان اور عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات میں کچھ سرد مہری ہے۔ اگرچہ اِس سرد مہری کی وجوہات ایسی نہیں ہیں جو بات چیت کے ذریعے سمجھائی نہ جا سکیں اور غلط فہمیوں کا ازالہ نہ ہو سکے۔ 

دراصل عرب ممالک کے پاکستان کے بارے میں کچھ خاص تاثرات ہیں۔ جن میں پاکستان کے ترکی اور ایران کیساتھ تعلقات سرفہرست ہیں۔ گزشتہ سال جب ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے تو پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان صلح صفائی کرانے کی بھرپور کوششیں کی تھی۔ اِس ضمن میں وزیراعظم عمران خان نے دونوں ممالک کے دورے بھی کئے۔ اِن کوششوں سے دونوں ممالک کے درمیان معاملات کافی بہتر ہونا شروع ہو گئے تھے لیکن بعض ممالک کی مداخلت کی وجہ سے خاطر خواہ نتائج نہ برآمد ہسکے۔

چونکہ خلیج میں امریکہ کا بہت اثرو رسوخ ہے اور دوسری طرف ایران کے ساتھ امریکہ کو خدا واسطے کا بیر ہے۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کا تو بس بہانہ ہے۔ ورنہ اِس خطے میں اصل فساد کی جڑ اسرائیل ہے۔ اسرائیل ہر صورت خطے میں اپنی چوہدراہٹ اور تسلط چاہتا ہے۔ صرف پاکستان، ایران اور ترکی اسرائیل کی اِس کوشش کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ایران، شام اور فلسطین میں مسلمانوں کی مدد کرتا ہے جو اسرائیل کے ساتھ برسرپیکار ہیں۔ اور یہ تو دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل امریکہ کا لاڈلہ بچہ ہے۔

دوسری طرف سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ اور غیرعلانیہ جنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ سعودی عرب یہ سمجھتا ہے اور ممکن ہے یہ تاثر درست بھی ہو کہ ایران حوثیوں کی مدد کر رہا ہے۔ اُس کے علاوہ بھی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ امریکہ کا عرب ملکوں پر دباؤ اور دیگر طریقوں سے عرب ممالک اور ایران، ترکی اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں دوری کا باعث ہے۔ اُس کے علاوہ عرب ممالک پاکستان کے بارے میں یہ تاثر رکھتے ہیں کہ پاکستانی معیشت زبوں حالی اور کمزوری کا شکار ہے۔ پاکستان میں جو بھی سول قیادت آتی ہے اس نے کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ یہ ممالک پاکستانی معاشرے کو پس ماندہ سمجھتے ہیں۔ جوکہ اس دور میں بھی معاشرتی اور مذہبی اقدار و روایات پر کاربند ہے۔

اگرچہ عرب ممالک کے ان میں اکثر تاثرات غلط فہمیوں پر مبنی ہیں۔ جو بات چیت کے ذریعے دور ہوسکتی ہیں۔ عرب ممالک کو یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ جن عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کئے اس کو تسلیم کیا اور جن عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ درپردہ تعلقات اور معاملات چل رہے ہیں۔ پاکستان نے کبھی اس پر اعتراض کیا نہ شکایت کی اور نہ ہی اس بنیاد پر ان ممالک کے ساتھ تعلقات میں رخنہ آنے دیا۔ اس کے علاوہ عرب ممالک کی تعمیر و ترقی میں لاکھوں پاکستانی ہنرمندوں اور مزدوروں کی محنت و کاوشوں کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ ان کاوشوں کے باوجود آج وہی لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔

 اِن عرب ممالک کو چاہئے کہ وہاں مقیم پاکستانیوں کی مشکلات کا ازالہ کریں اور ان ممالک کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے والے پاکستانیوں کو قدر و عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔ پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر تمام خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو خاص اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ خطے کے تمام مسلم ممالک کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم رہے اور ان کے درمیان ہر قسم کی غلط فہمی اور تلخی کو دور کیا جاسکے۔ اور پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کے ساتھ خوشگوار اوربرادرانہ سفارتی، تجارتی اور اقتصادی تعلقات قائم اور مضبوط ہوں۔

اس وقت خطے میں سیاسی و جغرافیائی تبدیلیاں لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ان تبدیلیوں میں امریکہ اور اسرائیل اپنے مفادات کے پیش نظر آگے ہیں۔ لیکن ان سیاسی جغرافیائی تبدیلیوں اور نئی صف بندیوں کے اس خطے اور خصوصاً عرب ممالک بلکہ تمام مسلم ممالک پر پڑنے والے اثرات کو کسی طور نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ نئی صف بندیوں کے بارے میں اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس کے نتیجے میں اس خطے کے اندر بھارت اور اسرائیل کے اثرات مضبوط ہوں گے۔ اور یہ خطے میں بہت بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

 اس کے نتیجے میں ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے عرب ممالک اور پاکستان کے درمیان تعلقات بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ جو یقیناً نہ تو عرب ممالک کے مفاد میں ہے نہ پاکستان کے مفاد میں۔ پاکستان ارض مقدس اور مقدس و محترم مقامات کے دفاع اور حفاظت کے لئے ہر ممکن مدد و تعاون کے لئے ہمیشہ کی طرح آج بھی پرعزم ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے درمیان کثیر الجہتی مفادات، سفارتی معاشی اور ثقافتی تعلقات کو بڑھاوا دینے کے لئے بہت سے مواقع اور امکانات موجود ہیں۔ تعلیم اور میڈیا میں تبادلہ پروگرام کے بہترین مواقع بھی موجود ہیں۔ عرب دنیا میں مغربی اور بھارتی اثر و رسوخ سے قطع نظر پاکستان ہی ایک اہم ملک بنے گا جو ہر طرح علاقائی مساوات سے متعلق ہے۔ یہ انتہائی نازک وقت ہے۔ وقتی مفادات سے قطع نظر عرب ممالک کو پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دینی چاہئے اور پاکستان کو معاشی طور پر کمزور سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔

مسلم ممالک آپس میں متحد ہو جائیں تو یہ دنیا کی بڑی طاقت بن جائیں گے۔ دوسروں کی محتاجی اور آلہ کار بننے اور مذہبی و عقیدوں کی نفرتیں ختم کریں اور ان بے مقصد باتوں سے باہر آکر قرآن کریم کی ہدایات کی روشنی میں اللہ کریم کے احکامات کے مطابق اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں، تو یقین کریں کہ دنیا کی کوئی طاقت نہ ان کو شکست دے سکے گی نہ کمزور کرسکے گی۔ چین اور روس کو بھی اس بلاک میں شامل کریں تو سونے پر سہاگہ ہوگا۔