2020ء میں پنجاب اسمبلی کی کیا کارکردگی رہی؟

(آئی این این نیوز)

سال 2020ء کے دوران پنجاب اسمبلی کے 9 اجلاس ہوئے جن میں تحفظ اسلام بل سمیت 19 بلوں کی منظوری دی گئی۔ 

 2020ء میں پنجاب اسمبلی کے 9 اجلاسوں کے مجموعی طور پر 157 سیشن ہوئے اور کورونا وبا کے باعث اجلاس محدود ہوئے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے صرف 51 روز اجلاسوں کی کارروائی ہو سکی۔

رواں سال تاریخ میں پہلی مرتبہ بجٹ اجلاس ہوٹل میں ہوا، اسمبلی میں قائمہ کمیٹیوں کو آپریشنل نہ کیا جاسکا جس کی وجہ سے پنجاب کا پارلیمانی نظام متاثر ہوا۔

ایوان نے سال 2020ء کے دوران تحفظ اسلام بل اور قائمہ کمیٹیوں کو بااختیار بنانے سمیت 19 بلوں کی منظوری دی۔

300 سے زائد تحاریک التوائے کار ایوان میں پیش کی گئیں، حکومت پنجاب کے پارلیمانی نظام کو مکمل طور پر آپریشنل کرنے میں ناکام رہی اور 41 میں سے صرف 22 قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین منتخب کیے جاسکے، کئی کمیٹیوں کا ایک بھی اجلاس نہیں ہوا۔

اس دوران حکومت قائمہ کمیٹیوں کی بجائے خصوصی کمیٹیاں بناکر پارلیمانی نظام چلاتی رہی، جس پر اپوزیشن نے منظور کیے گئے بلوں پر اعتراضات اٹھائے اور عدالت جانے کا اعلان بھی کیا۔

قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون کا چیئرمین نہ بنانے پر اپوزیشن نے قائمہ کمیٹیوں کا بائیکاٹ جاری رکھا۔

حکومت نے لوکل گورنمنٹ آڈٹ کے معاملات نمٹانے کے لیے تیسری پبلک کاؤنٹس کمیٹی کی منظوری دی لیکن وہ بھی فنکشنل نہ ہو سکی اور آڈٹ معاملات جوں کے توں رہے۔

کشمیریوں کی تحریک آزادی کے حق اور فرانس میں سرکاری سطح پر توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف متفقہ قراردادیں منظور کی گئیں، مفاد عامہ کے حوالے سے بھی 19 قراردادوں کی منظوری دی گئی۔

سال 2020ء میں بھی حکومتی اور اپوزیشن بنچوں میں محاذ آرائی جاری رہی، ایوان نعروں سے گونجتا رہا اور  اپوزیشن اسمبلی کے اندر اور باہر مختلف معاملات پر احتجاج کرتی رہی۔

آخری اجلاس حکومت کی جانب سے بلایا گیا لیکن اپوزیشن کے احتجاج کے باعث اسے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔