پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی خامیوں اور خوبیوں پر ایک نظر

(آئی این این نیوز)

گذشتہ کئی برسوں سے اپنے میدانوں میں ناقابل شکست نیوزی لینڈ نے پاکستان کوموجودہ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں ایک سو ایک رن سے شکست دیدی۔

یہ کوئی چھوٹی شکست نہیں اور باوجود اس کے کے میچ پانچویں دن آخری چند منٹوں تک چلا، ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس میچ کے دوران نہ تو پاکستان نیوزی لینڈ کو دو بار آوٹ کرنے میں کامیاب ہو سکانہ ہی ہم نیوزی لینڈ کی بالنگ کا جم کر مقابلہ کر سکے۔

کپتان رضوان، فواد اور فہیم اشرف کے علاوہ ہماری بیٹنگ لائن بالکل متاثر کن کارکردگی پیش نہیں کرسکی۔ فیلڈنگ کے شعبے میں بھی بہتری کی اشد ضرورت ہے اور جس طرح پاکستان ٹیم نے کیچ گرائے اس کے بعد سامنے والی ٹیم کو جلد آوٹ کرنے کی توقع رکھنا فضول ہے۔

پاکستان کی جانب سے میچ کی خاص بات 56.54کی اوسط سے 12835فرسٹ کلاس رن بنانے والے فواد عالم کی میچ کی دوسری اننگز میں بنائی گئی سنچری تھی۔ پہلی بار نیوزی لینڈ میں کسی بھی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں کسی پاکستانی بیٹسمین کی جانب سے سو کا ہندسہ پار کیا گیا۔

 گیارہ سال کے وقفے سے بنائی گئی اس ٹیسٹ سنچری سے فواد عالم نے نہ صرف اپنے ناقدین کو خاموش کیا بلکہ قومی کرکٹ ٹیم سے اپنی طویل غیر حاضری سے متعلق کئی سوال بھی اٹھا دیے۔

یہاں ہمارے سلیکٹرز اور شائقین کیلئے یہ سبق ہے کہ کسی بھی بیٹسمین یا کھلاڑی کو مناسب مواقع دیے بغیر ٹیم سے باہر کرنے کی بات نہ کی جائے کیونکہ ایسا کرنے سے ایک تو کھلاڑی کا مورال ڈاون ہو سکتا ہے بلکہ اس کی ذہنی و جسمانی کارکردگی میں بھی فرق پڑسکتا ہے۔

میچ کے پہلے دن سے ہی نیوزی لینڈ نے کھیل پر اپنی گرفت مضبوط رکھی اور پھر پاکستان کو کسی بھی موقع پر گیم میں واپس نہیں آنے دیا۔ پہلی اننگز میں 431 رن بنا کر نیوزی لینڈ نے پاکستان پر دباؤ برقرار رکھا۔ شاہین شاہ آفریدی اور عباس کے کچھ اچھے اسپیلز کے علاوہ پاکستان کی جانب سے اس ٹیسٹ میں کوئی بالرخاص کارکردگی نہ دکھا سکا۔ نسیم شاہ کی لائن اور لینتھ پورے میچ میں بنتی بگڑتی رہی اور یاسر شاہ کی لیگ اسپن بھی کوئی خاص جادوگری نہ دکھا سکی۔

پاکستان کو اسپن کے شعبے میں یاسر شاہ کے علاوہ بھی دوسرے آپشن تلاش کرنا ہونگے چونکہ اس کی فارم میں تسلسل کی شدید کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔

شان مسعود اور عابد علی دونوں اننگز میں متاثر نہ کر سکے۔ پہلے اننگز میں عابد علی اور دوسری اننگز میں شان جس طرح آوٹ ہوئے اسے کسی بھی طرح اوپننگ بیٹسمین کے شایان شان نہیں کہا جاسکتا۔

2020میں 5ٹیسٹ میں صرف 20.5کی اوسط سے 164رنز بنانے والے عابد ایک اچھے دفاعی بلے باز کے طور پر سامنے آئے تھے اور ان کی حالیہ کارکردگی سے یقیناً وہ اور بیٹنگ کوچ یونس خان کافی پریشان ہوں گے۔

شان مسعود 36کی اوسط سے گذشتہ 5 ٹیسٹ میں 289رن بنا چکے ہیں اور ان کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ جلد ایک بڑی اننگ کھیلنے والے ہیں۔ 3جنوری سے شروع ہونیوالے دوسرے ٹیسٹ میں ان دونوں کی کارکردگی پر سب کی نظریں ہونگی۔

تجربہ کار بلے باز، سابق کپتان اظہر علی نے دوسری اننگز میں اچھی دفاعی بیٹنگ کی لیکن بدقسمتی سے 38رن ہی بنا سکے۔ حارث سہیل نے دونوں اننگز میں مایوس کیا اورنیوزی لینڈ میں کامیابی کیلئے یونس خان کو ان کے فٹ ورک پر کام کرنا ہو گا۔

گذشتہ دو برس میں کھیلے گئے 5 ٹیسٹ میں ان کی کارکردگی واجبی سی رہی ہے اور وہ صرف 105رن ہی بنا سکے ہیں۔ فہیم اشرف نے دونوں اننگز میں پاکستانی بیٹنگ کو سہارا دینے کی کوشش کی اور پہلی اننگز میں ان کے 91 رنز ایک یادگار پرفارمنس کہی جائے گی۔ پہلی اننگز میں پاکستانی بیٹسمینوں کی بے جا سست روی ہماری پلاننگ پر سوالیہ نشان ہے۔

 ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اب بڑی ٹیمیں قدرے تیز کھیل کا مظاہرہ کرتی ہیں تاکہ جلدی وکٹیں گرنے پر بھی ایک اچھا مجموعہ بورڈ پر سجا رہے۔ اب پاکستانی ٹاپ آرڈر پر اگلے ٹیسٹ میں بڑا مجموعہ بنانے کیلئے بڑی بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے۔

نیوزی لینڈ کی بات کی جائے تو پوری ٹیم کھیل کے تینوں شعبوں میں بھرپور طریقے سے پاکستان پر حاوی دکھائی دیتی ہے۔ تقریباً 53رن کی بیٹنگ اوسط رکھنے والے مایہ ناز کھلاڑی و کپتان کین ولیمسن کی زیر نگرانی اوپننگ اور مڈل آرڈر رنز کررہا ہے اور ساودی، بولٹ، ویگنر، جیمیسن اور سینٹنرپر مشتمل بالنگ اٹیک پاکستانی بیٹسمینوں کو آرام سے رنز نہیں بنانے دے رہا۔

یہاں کیوی فاسٹ بالر نیل ویگنر کی تعریف کرنا ہو گی جنھوں نے میچ کے دوران زخمی ہونے کے باوجوکھیل جاری رکھا اور اہم مواقعوں پر وکٹیں لیکر نیوزی لینڈ کو میچ میں واپس لائے۔ تقریباًسوا آٹھ سو ٹیسٹ وکٹوں کے ساتھ نیوزی لینڈ کے فاسٹ بالنگ کے شعبے کودنیائے کرکٹ میں ایک طاقتور ترین اٹیک کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اسپن کے شعبے میں سینٹنر بھی نپی تلی بالنگ کے ذریعے اپنے فاسٹ بولرز کو خوب مدد فراہم کرتے ہیں۔

2020کے کورونا سے متاثرہ برس میں پاکستان نے صرف 5ٹیسٹ کھیلے اور صرف ایک جیتنے میں کامیاب ہوا۔ اس کارکردگی کو تسلی بخش نہیں کہا جاسکتا۔ یہ سال تو سمجھئے گزر گیا لیکن کرائسٹ چرچ میں 3 جنوری سے شروع ہونے والے اگلے ٹیسٹ کیلئے پاکستان کو کافی تیاری کرنا ہو گی۔

کھیل کے تینوں شعبوں میں بہتری کی بہت گنجائش ہے۔

نیوزی لینڈ تقریباً دس سال سے اپنے میدانوں میں کسی ایشیائی ٹیم سے نہیں ہاری ہے اور یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا ہو گی اس گراؤنڈ پر بھی نیوزی لینڈ کا ریکارڈ شاندار ہے اور اس وقت اتنی طاقتور کیوی ٹیم کو ہرانا ہر گز آسان نہ ہو گا۔ گو کہ پاکستان پہلا ٹیسٹ جیت نہ سکا لیکن اگر ہم نے اس ہار میں موجود مثبت پہلوؤں سے سیکھنے کی کوشش کی تو ہو سکتا ہے کہ پاکستان 2021کا آغاز ایک اچھے انداز سے کرسکے۔