مولانا تیرا شکریہ!

آصف علی زرداری کیسی ہی شطرنج کی گیم جمائیں، مولانا فضل الرحمٰن ہیں کہ پی ڈی ایم کی مزاحمتی امنگ کا بھرم برقرار رکھے ہوئے ہیں، اُن کے لئے کھونے کو کچھ نہیں تو پیپلز پارٹی اور نون لیگیوں کے لئے کھونے کو اب بھی بہت کچھ ہے۔ دونوں پارٹیاں ضمنی انتخابات ہوں یا سینیٹ کے الیکشن، بائیکاٹ کرنا افورڈ نہیں کرسکتیں، اس بار تو سنا ہے آصف علی زرداری او ر نوازشریف ایک ہی سُرمیں بات کررہے تھے، ضمنی و سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کی لیکن مولانا کی ہمت اُن کے لئے بڑی نعمت ثابت ہو رہی ہے۔ کوئی ڈرتا ہے تو اُن سے یا پھر اِس بیانیے سے جو دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح چبھا جاتا ہے۔ 

گو کہ سالِ نو کے آغاز پہ پی ڈی ایم کے ٹھس ہوتے اعلانات سے اس کی تحریک پہ وقتی اوس پڑنی ہی تھی، مولانا کے ایک ہی فقرے نے ٹمی کو سلگائے رکھا ہے۔ لانگ مارچ کی منزل اسلام آباد ہوگی یا راولپنڈی کا غیرمعین عندیہ دے کر اُنہوں نے پاور کے دونوں مراکز میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔

 سننے میں آیا ہے کہ ’’اگلوں‘‘ نے کانوں کو انگلیاں لگاتے ہوئے سیاست سے دور رہنے کی یقین دہانی کرائی تھی جس کا احترام کرتے ہوئے مولانا نے رعایت یہ دی کہ کس گیٹ پہ جائیں گے۔ اگلے گیٹ پہ تصادم کا اشارہ اور پچھلے گیٹ سے مصالحت کا عندیہ۔ یہ سیاستدان بڑے ہی کایاں لوگ ہیں۔ عمران خان نے کوئی غلط نہیں کہا کہ دایاں ہاتھ دکھا کر بایاں ہاتھ چلاتے ہیں کہ بیچارہ باؤلر تو ایک ہی ہاتھ سے بال کراتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ بال ٹمپر بھی کر لیتا ہے۔ اور وزیراعظم کی بال تو ہے ہی ٹمپرڈ۔

وہ ٹھیک کہتے ہیں کہ ان کے بس میں ہوتا تو وہ ان سب کو جیلوں میں بند کردیتے، جب یہ بھی بس میں نہ ہو تو کوئی فاشسٹ بننا بھی چاہے تو بنے کیسے۔ ہائے حسرت ہی رہ گئی۔ البتہ کٹھ پتلی ہونے سے انکار کریں بھی تو کیسے کہ سب کچھ دیا تو انہی کا ہے۔ اب ڈریہ ہے کہ جن پتوں پہ تکیہ تھا، وہی ہوا دینا نہ شروع کردیں۔ آخر کوئی کیوں اور کب تک اک گناہ کا خمیازہ صبح شام کی نااہلیوں کے باعث تواتر سے بھگتتا رہے۔ سجیلے جوان تو آنکھوں کا تارہ ہیں اور آنکھوں میں شہتیر آجائیں تو دِکھے گا کیا۔

ہمارے مولانا بھی عجب مخمصے میں پھنسے ہیں، ان کے دونوں بڑے اتحادیوں کا ایک ایک بازو بندھا ہے اور نوابزادہ نصراللہ خان کی سب کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت کے اسیربن کے رہ گئے ہیں۔ اکیلا چنا بھاڑ جھونک سکتا ہوتا تو مولانا اپنے پچھلے دھرنے میں لنکا ڈھا چکے ہوتے۔ لہٰذا طوہاً و کرہاً اتحادیوں کو تو ساتھ لینا ہی پڑے گا۔ مولانا کی خوش قسمتی ہے کہ پچھلے گیٹ سے جانے والے مسلم لیگ ن والے تو دونوں بڑے عمران خان نے کمال ہوشیاری سے جیل میں ڈال دیے ہیں اور ان کے ساتھ نوازشریف کی فرماں بردار بیٹی مردانہ وار کھڑی ہے۔ ایسے میں بلاول بھٹو اپنی جمہوریت پسندی کے استدلال سے کیسے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔

دونوں طرح کے کھیل اپوزیشن کی صفوں میں چلتے رہیں گے اور دو طرح کے کھیل اب اسلام آباد اور راولپنڈی کی فضاؤں میں بھی شروع ہوا چاہتے ہیں۔ آخر کوئی کب تک کسی کی نالائقیوں کا دوش لیتا رہے گا، بس اک کندھا اچکنے کی بات ہے یا پھر عمران خان کا ایک غلط قدم ان کی حکومت کو لے بیٹھ سکتا ہے۔ دیکھئے پھر کون کون سے گھوڑے میدان میں اترتے ہیں، لگتا ہے کہ ٹریک ٹو بس ایک ٹرائل غبارہ تھا۔ بھلا ایسے خفیہ سفارت کاری ہوتی ہے؟ یا پھر ایک وارننگ شاٹ تھا۔ اصلی ہاتھ تو بڑوں کی لڑائی میں پھنسے بیچارے خواجہ آصف کے ساتھ ہوا یا پھر پرائم منسٹر ان ویٹنگ شہباز شریف کے ساتھ جو بقول عمران خان اپنے لیپ ٹاپ پر حکومت میں آنے کے آپشنز بناتے بگاڑتے رہ گئے۔

سیاست کی ان پیچ دار گتھیوں سے قطع نظر جو بات پوچھنے کی ہے کہ آخر ایک حکومت کو گرا کر دوسری حکومت لانے کے اس لایعنی کھیل سے نہ آئینی ڈھانچے کے مطابق، سیاسی ڈھانچے کی تشکیلِ نو ہو سکتی ہے اور نہ عوام کی زندگی میں کوئی معنی خیز تبدیلی رونما ہو سکتی ہے۔ ہم کب سے اس بےنتیجہ دبے ثمر کھیل میں زندگیاں گلا بیٹھے ہیں۔ ملک سنبھلا، نہ حکومت سیدھی ہو پائی اور نہ معیشت لوگوں اور مملکت کی ضرورتوں کو پوری کرنے کے قابل ہو سکی۔ کل میاں نواز شریف کہتے کہتے پھر سے جلا وطن ہو گئے کہ مجھے کیوں نکالا تو آنے والے کل میں شاید عمران خان بھی یہ کہتے پائے جائیں گے کہ انہیں این آر او نہ دینے پہ کیوں نکالا گیا۔ جو کچھ مولانا فضل الرحمٰن فرما رہے ہیں کہ اصل مسئلہ نظام کی خرابی کی جڑ کو نکالنے کا ہے۔ یہ کام تو ایک انقلابی ریاستی کا یاپلٹ سے کم نہیں، لیکن اس کے لئے درکار توانائی پی ڈی ایم کے تلوں کے تیل میں نہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ مملکتی، ریاستی، معاشی اور سماجیاتی بحران اور عالمی حالات کے دباؤمیں اب مملکت خداداد کے پاس پرانے نو آبادیاتی شکنجے سے نکلنے کے سوا چارہ باقی نہیں بچا۔

اگر کسی کو سمجھ نہیں تو یہ سمجھانا کسی کو مشکل بھی نہیں بشرطیکہ کوئی سمجھنے کو تیار ہو۔ مارشل لا لگاکے وہ دیکھ چکے۔ سویلین وقفے ادھورے کے ادھورے رہ گئے اور اب کٹھ پتلی نظام بھی بےآبرو ہو چکا۔ تو نیشنل ڈائیلاگ کی بات تو ایجنڈے پہ آنی ہے لیکن سوال ہے کہ کس ایجنڈے پہ؟ بہتر ہوگا کہ پی ڈی ایم آئینی، ریاستی، معاشی اور اداراتی کایا پلٹ کا اکیسویں صدی کی تیسری دہائی کا کوئی متبادل پروگرام پیش کرے اور ایک آزادانہ انتخابات کے ذریعہ ایک قومی مصالحتی حکومت دس برس کے ایجنڈے کے ساتھ بھرپور عوامی تائید سے ملک کی باگ ڈور سنبھالے تاکہ عبورِ دوئم ایک قومی جمہوری، وفاقی اور پائیدار معاشی بنیاد مستحکم کر سکے۔ روز روز کی مارا ماری سے بہتر ہے کہ ملک کو سماجی، عوامی اور معاشی ترقی کی راہ پہ ڈالا جا سکے۔ مولانا نے مسئلے کی نبض پہ تو ہاتھ رکھا ہے لیکن ان کے پاس کوئی متبادل ایجنڈا نہیں ہے۔ وہ ایجنڈا تمام جمہوری جماعتوں، سول سوسائٹی اور عوامی تنظیموں کے اشتراک سے تشکیل پا سکتا ہے۔

یہ کہنا کافی نہیں کہ اصل مسئلہ عمران حکومت نہیں، اصل کام یہ ہے کہ پھر کیا کرنا ہے؟ مولانا تیرا شکریہ کہنے کو دل چاہتا ہے لیکن کرک میں ایک بےآباد مندر کو مولانا کے رفقا کی جانب سے ڈھائے جانے کے بعد ہمت نہیں پڑرہی۔ بھلا ان کے مقتدیوں کو کون سمجھائے کہ اس کا بھارت کے بےزبان مسلمانوں پہ کیا اثر پڑے گا اور کس طرح ہندو توا والے انتہا پسند اسے مسلم کشی کے لئے استعمال کریں گے؟ پھر بھی، مولانا تیرا شکریہ!