پاکستان مسلم لیگ ن نے نیب کا بیان مسترد کردیا

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے نیب کا بیان مسترد کردیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ شہباز شریف نے نیب کے تمام سوالات کے جواب دئیے اور تحریری طور پر جمع بھی کروا دئیے ہیں اور ان سے منی لانڈرنگ کے بارے میں کوئی سوال نہیں پوچھا گیا، نیب جھوٹ بول رہا ہے ۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان نے کہا کہ شہباز شریف نیب نیازی گٹھ جوڑ کے جھوٹے الزامات اور کرونا کے خطرات کے باوجود نیب میں پیش ہوئے تو اب عمران صاحب ہیلی کاپٹر کیس اور آٹا چینی چوری میں نیب میں پیش ہوں یا پھر عمران صاحب 23 جعلی اکاونٹس اورفارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن میں پیش ہوں۔

مریم اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ مالم جبہ، 125 ارب کے بی آر ٹی کھڈوں، 100 ارب کے درختوں کی کرپشن میں ملوث مجرموں کو بلانے کی تاریخ دے اور اگر نوازشریف، شہبازشریف اور مسلم لیگ (ن) قانون کے سامنے پیش ہوسکتے ہیں تو عوام کے مجرم آٹا اور چینی چور کیوں نہیں پیش ہوسکتے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان کاکہنا تھا کہ شہباز شریف کا اصل جرم نالائق ، نااہل اور آٹا چینی چوروں کی نالائقی اور ڈاکہ بے نقاب کرنا جبکہ پورے پاکستان میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کو حفاظتی کٹس مہیا کرنا ہے۔

مریم اورنگزیب کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ سیاسی انتقام کی بدترین مثالیں قائم کررہا ہے، جنہوں نے ملک و قوم کی خدمت کی، سرکاری خزانے کے اربوں روپے کی بچت کی، ان کو طلب کیا جا رہا ہے جبکہ جو قوم کا اربوں روپے کھا گئے، انہیں نیب سلوٹ کرتا ہے۔

 پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان نے کہا کہ نیب فیس بھی اور کیس بھی صرف نواز شریف، شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کا دیکھتا ہے،عمران صاحب نیب پیشی کے بعد نالائق حکومت کی کورونا سے نمٹنے کی کارکردگی بہتر نہیں ہوگی۔

مریم اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ عمران صاحب شہبازشریف پیش ہوگئے ہیں، اب کورونا سے نمٹنے پر توجہ دیں، عمران صاحب نیب پیشی کے بعد ڈاکٹرز، طبی عملے کو حفاظتی سامان اور ہسپتالوں میں بیڈز کی عدم دستیابی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب  نے مزید کہا کہ عمران صاحب سیاسی انتقام کی سازش چھوڑیں، قوم کی خدمت کا فرض نبھائیں اور شہباز شریف کی پیشی کے بعد اب مزدور ، دیہاڑی دار کو ریلیف پہنچائیں جبکہ ڈاکٹرز، نرسز اور طبی عملے کے لئے حفاظتی لباس، ضروری سامان اور مریضوں کے لئے بستر کی فراہمی یقینی بنائیں۔