دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 35 لاکھ 67 ہزار سے تجاوز کر گئی

دنیا بھر میں کورونا وائر سے متاثرہ افراد کی تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ اموات کی تعداد بھی 2 لاکھ 48 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔

امریکا میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 11 لاکھ 88 ہزار سے زائد ہو چکی ہے جب کہ ہلاک افراد کی تعداد ساڑھے 68 ہزار سے اوپر ہو چکی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ امریکا میں کورونا سے ہلاک افراد کی تعداد ایک لاکھ تک ہو سکتی ہے جب کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بار پھر چین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ کورونا وائرس ووہا ن کی لیبارٹری میں تیار ہوا۔

ادھر برطانیہ بھی کورونا وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد ساڑھے 28 ہزار ہو چکی ہے جب کہ اٹلی میں اموات کی تعداد 28 ہزار 884 تک پہنچ گئی ہے۔

اسپین میں عالمگیر وبا سے اب تک 25 ہزار 264 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ فرانس میں بھی 24 ہزار 895 افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔

فرانس نے کورونا کیسز کی تعداد کم ہونے پر یورپی یونین، شنجین علاقوں یا برطانیہ سے آنے والے افراد کو قرنطینہ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فرانسیسی ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ قرنطینہ قواعدان افراد پر لاگونہیں ہوں گے جو یورپی یونین کے رکن ممالک یا برطانیہ سے فرانس آئیں گے۔

اس کے علاوہ فرانس دو ماہ سے جاری سخت لاک ڈاون میں نرمی کی تیاریاں بھی کررہاہے۔

آسٹریلیا، ملائیشیا اور بھارت میں بھی آج سے لاک ڈاؤن میں نرمی کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔

دوسری افغانستان کی وزارت صحت نے کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ دارالحکومت کابل میں کی جانے والی رینڈم ٹیسٹنگ کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ ہر تیسرا شہری وائرس سے متاثر ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں برس کے آخر تک کورونا کی ویکسین تیار ہو جائے گی جب کہ جرمنی نے خبردار کیا ہے کہ وائرس کی ویکسین تیار ہونے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔

جرمنی کے وزیر صحت نے امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر کورونا کی ویکسین چند مہینوں میں تیار ہو جاتی ہے تو مجھے اس پر بہت خوشی ہو گی لیکن اس میں سالوں لگ سکتے ہیں جیسا ہم نے پہلے ویکسین کی تیاری کے دورا ن دیکھا ہے۔

دنیا بھر میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 35 لاکھ 67 ہزار 143 ہو چکی ہے جب کہ ہلاک افراد کی تعداد 2 لاکھ 48 ہزار 317 ہو چکی ہے اور 11 لاکھ 57 ہزار 204 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔