کراچی میں آج سے ہیٹ ویو، سمندری ہوائیں معطل، پارہ 43 ڈگری تک جانے کا امکان

کراچی آج  ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہے جس کے باعث سمندری ہوائیں معطل ہوں گی اور درجہ حرارت 43 ڈگری تک جانے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شہر قائد میں شمال مغربی ریگستانی علاقوں سےگرم اور خشک ہوائیں چل رہی ہیں اور 24گھنٹوں کے دوران موسم معمول سےزیادہ گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔

ہوا میں نمی کا تناسب 62 فیصد ہے جب کہ  ہوائیں 14 سے 18 کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار سے چل رہی ہیں۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں  کم سے کم درجہ حرارت 27.9 ڈگری سینٹی گریڈ رکارڈ کیا گیا ہے جب کہ  آج درجہ حرارت 39 سے 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے جو آئندہ چند روز میں 43 ڈگری کو بھی چھو سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات نے کراچی کے 5 سے 8 مئی تک ہیٹ ویو کی لپیٹ میں رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔

ہیٹ ویو سے بچنے کے لیے ضروری ہدایات

ہیٹ اسٹروک اُس وقت ہوتا ہے جب انسانی جسم اندرونی درجہ حرارت کو کم رکھنے کے لیے تیزی سے پسینہ خارج کرتا ہے تاکہ جسم کو باہر سے ٹھنڈک پہنچائی جا سکے لیکن پسینے کے اخراج کی صورت میں پیدا ہونے والی پانی کی اندرونی کمی کو فوراً پورا نہ کیا جائے تو پانی اور نمکیات کی کمی کے باعث جسم کا قدرتی کولنگ سسٹم ناکارہ ہوجاتا ہے اور انسان تھکاوٹ، سرسام یا لو لگ جانے جیسے جان لیوا امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔

حالیہ گرمی کی لہر چونکہ رمضان المبارک کے دوران آ رہی ہے لہٰذا روزے کی حالت میں ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ سحر اور افطار میں ٹھنڈی غذاؤں کا استعمال کریں، مشروبات اور پانی کا استعمال زیادہ کریں جب کہ  مرغن کھانوں سے گریز کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلا ضرورت سائے دار جگہ سے مت نکلیں اور اگر مجبوری میں باہر نکلنا پڑے تو احتیاطی تدابیر اختیار کریں، باہر نکلتے وقت سر اور کندھے پر گیلا کپڑا رکھیں اور ہلکے رنگوں والے کپڑے پہنیں، جہاں تک ممکن ہو رش سے دور اور سایہ دار مقام پر رہیں، سورج سے بچنے کے لیے چھتری کا استعمال ضرور کریں،  چکر آنے،کمزوری محسوس ہونے یا زیادہ پسینہ آنے پر سایہ دار جگہ پررک جائیں۔

ماہرین نے شدید گرمی میں 4 سال سے کم عمر بچے اور 60 سال سے زائد افراد کو خصوصی احتیاط کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد، ذیابیطیس، امراض قلب اور ہائپر ٹینشن یا فشار خون کی زیادتی کے مریض شدید گرمی میں باہر نہ نکلیں۔

وہ افراد جو دھوپ میں کام کرتے ہیں انہیں بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور انہیں مسلسل اپنے جسم پر پانی ڈالتے رہنا چاہیے۔