سانحہ مچ کا شہید

(آئی این این نیوز)

میرا نام عزیز بیگ تھا اور میں اس وقت کوئٹہ سے پچاس کلومیٹر دور مچھ کے مقام پر واقع کوئلے کی کان میں مزدوری میں مصروف تھا، میرا تعلق قابلِ فخر ہزارہ برادری سے تھا جو اپنی محنت اور جانفشانی کے حوالے سے پورے ملک میں شہرت رکھتی ہے، نئے سال کا آغاز تھا‘ امید تھی کہ یہ مزدوری کافی دن چلے گی جس سے جمع ہونے والی رقم سے میں اپنے سات چھوٹے چھوٹے بچوں کی کچھ معصوم خواہشات پوری کرسکوں گا، اپنی اہلیہ کے لئے نئے کپڑے خرید کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر سکوں گا۔

ایسی ہی بہت سی معصوم سوچوں کے ساتھ میں اپنے کام میں مگن تھا کہ اچانک کان میں شور شرابے کی آواز نے تمام مزدوروں کو چونکا دیا ،ایک انجانے سے خوف کا احساس ہوا کہ کہیں کان پر باغیوں نے حملہ تو نہیں کردیا لیکن پھر اپنے آپ کو تسلی دی کہ نہیں اب تو ملک کے حالات بہتر ہو چکے ہیں، کان کے باہر بھی کافی رونق نظر آ رہی ہے لہذا ایسا کچھ نہیں ہوسکتا لیکن میرا یہ احساس غلط نکلا کیوں کہ اچانک فائرنگ کی آواز آنے لگی اور بھگدڑ کا سلسلہ تیز ہوتا چلا گیا اور کچھ ہی دیر بعد وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔

کان میں اس وقت سینکڑوں مزدور کام کر رہے تھے جبکہ حملہ آوروں کی تعداد بھی درجنوں میں تھی جو جدید اسلحے سے لیس تھے لیکن کچھ ہی دیر میں مجھ سمیت تمام مزدوروں کو حملہ آوروں کا مقصدسمجھ میں آ چکا تھا جب انہوں نے ہماری برادری کے افراد کو ایک جگہ جمع کرنا شروع کیا، میں سرجھکائے خدا تعالیٰ سے اس مشکل وقت سے نکلنے کی دعا میں مصروف تھا کہ چار افراد اسلحہ تانے میری طرف بڑھے ،میری مزاحمت پر مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، زخمی حالت میں میرے دونوں ہاتھ پیچھے کی جانب باندھ دیئے گئے تھے، جب ہمیں ایک درجن سے زائد اپنے بھائیوں کے ساتھ جمع کر دیا گیا تو صرف اتنا کہا گیا کہ اگر تم لوگوں نے خاموشی سے حکم پر عملدرآمد کیا تو تم سب کی جان بچ سکتی ہے ورنہ یہیں تم سب کو قتل کر دیا جائے گا۔

 ہم سب بال بچوں والے تھے‘ سب کو اپنی جانیں عزیز تھیں۔ ہم نے خاموشی اختیار کی اور پھر سب کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر کان سے باہر نکال کر لے جایا جانے لگا۔ اغواء کاروں کا سرغنہ مسلسل کسی سے سیٹلائٹ فون پر رابطے میں تھا، اغواء کاروں نے ہمیں گاڑیوں میں ڈالا اور تقریباً دس سے پندرہ منٹ کے بعد ایک ویران مقام پر اتار دیا گیا۔ میرے اندر کا خوف ایک بار پھر سر اٹھانے لگا تھا کیونکہ پچھلی ایک دہائی سے بلوچستان میں دہشت گردوں کا ایک طبقہ ہزارہ برادری کی قتل و غارت گری میں مصروف ہے اور آج بھی کان سے صرف ہزارہ برادری کے افراد کو ہی اغواء کیا گیا تھا اور اب ہمیں ایک سنسان مقام پر گاڑیوں سے اتار دیا گیا تھا، مجھ سمیت تمام افراد کے پیر شل ہو چکے تھے، ہم سب کی ایک ہی دعا تھی کہ ہمیں بچانے کے لئے کوئی آ جائے لیکن شاید اب بہت دیر ہوچکی تھی یا پھر ہمارا وقت پورا ہو چکا تھا۔

 اچانک مجھے شور کی آواز سنائی دی جیسے میرا کوئی بھائی درد کی تکلیف سے سسک رہا ہو۔ اس آواز نے میرے رونگھٹے کھڑ ے کردیئے تھے ، پھر دوسرے کو ذبح کیا گیا ، اچانک چیخ و پکار شروع ہو چکی تھی، ظالموں نے موت کا کھیل شروع کر دیا تھا، مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ موت میرے لئے اب چند لمحوں کی بات ہے، مجھے اب اپنے سات چھوٹے چھوٹے بچے سامنے نظر آ رہے تھے‘ وہ سب رو رہے تھے‘ بلبلا رہے تھے‘ مجھے بلارہے تھے۔ میں اور ڈر گیا کہ میرے بعد ان کا کیا ہوگا، کون ان کی دیکھ بھال کرے گا؟ مجھے میرے بیوی بچے بلا رہے تھے ،لیکن میں ہزارہ برادری سے تعلق کے اپنے ناکردہ جرم کی پاداش میں ذبح ہونے والا تھا۔ مجھے ریاست سے شکایت تھی جو میری سلامتی کی ذمہ دار تھی لیکن وہ میری حفاظت نہ کرسکی۔

مجھے ریاست سے شکایت تھی جو میرے لئے روزگار فراہم کرنے کی ذمہ دار تھی لیکن وہ مجھے روزگار بھی نہ دے سکی جس کے باعث مجھے ایک دور دراز علاقے میں اپنی زندگی خطرے میں ڈالنا پڑی۔ مجھے ریاست سے شکایت تھی، جسے معلوم تھا کہ ہمیں چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے لیکن ہمارے لئے حفاظت کا کوئی انتظام نہ تھا۔

میں ابھی سوچوں کے بھنور سے باہر بھی نہیں آیا تھا کہ مجھے پیچھے سے دو افراد نے پکڑ کر لٹایالیکن میرا جسم اب سن ہوچکا تھا‘ صرف اتنا محسوس ہوا کہ کسی تیز دھار ہتھیار سے میرے سر کو میرے جسم سے الگ کردیا گیا اور میں اپنی فریاد اپنی شکایتیں لے کر دوسرے جہاں کی طرف رخصت ہو گیا‘ اس ظالم دنیا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر ۔۔ اس دعا کہ ساتھ کہ اے میرے پروردگار میرے بعد بچ جانے والے میرے بھائیوں، میری قوم اور میرے ملک کی حفاظت فرما ۔