پاکستان کا ’’آذر بھائی جان‘‘

(آئی این این نیوز)

آذر بائیجان فارسی زبان کالفظ ہے جس کا مفہوم ہے ’’آگ کے رکھوالے‘‘۔ کہا جاتا ہےکہ سطحِ زمین پر تیل کے چشموں کی وجہ سے یہاں آ گ بھڑکتی رہتی تھی۔ یہیں سے پہلی بار تیل نکالا گیا تھا یہاں گیس بھی بہت زیادہ ہے۔

پہاڑ ہیں، جہاں سے خود بخود گیس نکلتی رہتی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں زر تشت کی آتش گاہوں کی کثرت کے سبب اسے یہ نام ملا ۔ آذری لوگ اپنی تہذیب و تمدن، ثقافت اور رہن سہن کے لحاظ سے سراپا ترک ہیں اور خود کو ترک قوم کا ہی حصہ سمجھتے ہیں۔

ترکی کے صدر نے آذر بائیجان میں کہا تھا کہ بے شک ہم دو ملک ہیں مگر ہماری قوم ایک ہے۔ آذری زبان ویسے تو فارسی کے بہت قریب تر ہے مگر اس میں ترک زبان کے بھی بے شمار الفاظ شامل ہیں۔ یہاں حضرت عثمانؓ کے دور میں مسلمان آ گئے تھے۔

کہتے ہیں کہ ایک واقعہ کے سبب سارا شہر ایک ساتھ مسلمان ہو گیا تھا۔ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان باہمی اعتماد کی ایک طویل تاریخ ہے۔ پاکستان نے آرمینیا کو بطور ریاست تسلیم نہیں کیا۔ دونوں ملکوں میں تعلقات کی خرابی کی بنیاد نیگورنوکاراباخ تنازعہ ہے۔

نیگورنو کاراباخ کا خطہ بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے مگر آرمینیا نے اس کے سات اضلاع پر قبضہ کر رکھا ہے۔ 2016 کے آخر میں آرمینیا اور پاکستان کےتعلقات میں مزید خرابی آئی جب آرمینیا نے روس کی زیرقیادت اجتماعی سلامتی معاہدہ آرگنائزیشن (سی ایس ٹی او) کی پارلیمانی اسمبلی میں مبصرین کی حیثیت سے پاکستان کی درخواست کو ویٹو کیا۔

یوں آذر بائیجان اور پاکستان اور زیادہ قریب ہو گئے ۔آذر بائیجان پاکستان کےلئے آذر بھائی جان بن گیا۔ پاکستان ان پہلے ممالک میں شامل تھا جنہوں نے آذربائیجان کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔

پاکستان نے اقوام متحدہ میں نیگورنو کاراباخ کے معاملے پر آذربائیجان کے موقف کی بھرپور حمایت کی۔ نیگورنو کاراباخ کا معاملہ کشمیر کی طرح کا ہے جب سوویت یونین ختم ہوا اور آذر بائیجان کو آزادی ملی تو اس کے صوبے نیگورنو کاراباخ پر زبردستی آرمینیا نے قبضہ کرلیا۔

اس وقت سے مسلسل دونوں ممالک میں لڑائی جاری ہے جو کبھی تیز ہو جاتی ہے اور کبھی سست۔ کشمیر کی طرح نیگورنوکاراباخ کی آبادی مسلمان ہے اس پر آرمینین فوج نے بے پناہ تشددکیا اور مقامی لوگوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا۔

ہزاروں مسلمان شہید کر دئیے گئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ چھ ہزار لوگ ایک ہی دن میں ایک ہی جگہ پر شہید کئے گئے۔ مساجد کا تقدس پامال کیا گیا۔ معروف تاریخی اگدم مسجد کو جانوروں کے باڑے میں تبدیل کر دیا۔

انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی تصویروں میں مسجد میں سور، گدھے اور دیگر جانور بھی باندھے دیکھے گئے۔ سو آذر بائیجان کے پاس جنگ کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ۔وہ مسلسل نیگورنوباخ کے لوگوں کیلئے حالتِ جنگ میں ہے۔ جس طرح پاکستان کشمیریوں کیلئے مسلسل بھارت کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے۔

وہاں کے لوگ پاکستان سے بہت محبت کرتے ہیں اسی سبب دونوں ممالک میں مسلسل باہمی تعاون بڑھ رہا ہے۔اس وقت آذر بائیجان میں جگہ جگہ پاکستانی پر چم لہرا رہے ہیں۔

لگ رہا ہے کہ پاکستان میں بھی بہت جلد آذربائیجان کے پرچم لہرانا شروع ہو جائیں گے۔ ابھی چند دن پہلے پاکستان، آذربائیجان اور ترکی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا۔ مجھے یہ خبر دیتے ہوئے کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہو رہی کہ تینوں ممالک میں دفاعی معاہدہ ہو چکا ہے۔

تینوں ممالک ایک دوسرے سے اسلحہ خریدیں گے۔ ایک دوسرے کے ساتھ انٹیلی جنس کا تبادلہ ہو گا۔ فوجی ٹریننگ ہو گی۔ ہر طرح کے دفاعی پریکٹیکل معاملات میں تینوں ساتھ ہو ں گے۔

ممالک کے مابین تمام شعبوں میں تعاون اور مضبوط و گہرا ہوگا۔ بے شک یہ تعاون دوسرے ممالک کے خلاف نہیں مگر انڈین میڈیا اس کے خلاف بہت شور کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ پاکستان نے آذر بائیجان کو بہت بڑی فوجی امداد دی ہے۔

میرے نزدیک اس پروپیگنڈا کی بنیادی وجہ صرف اتنی ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کی حمایت سمیت مشترکہ مفادات کے امور پر تینوں قومیں آپس میں متحد ہیں اور ترکی کی طرح آذربائیجان بھی کشمیری مسلمان بھائیوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کر رہا ہے۔

ترکی پاکستان سے مشاق طیارے خرید چکا ہے۔ آذر بائیجان طیارے اور دوسرا اسلحہ خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پاکستان ترکی سے جدید ٹینک خریدنے والا ہے۔ تینوں ممالک میں کاروبار اور سیاحت کے شعبے میں تعاون کے معاہدے بھی ہو چکے ہیں۔ کوویڈ 19ویکسین کےحوالے سے بھی تعاون جاری ہے۔

اسلام آباد اور باکو کے مابین براہ راست پروازوں میں بہتری آنے والی ہے۔ تینوں ممالک کے عوام کے وسیع تر تعلقات کا لائحہ عمل تیار کر لیا گیا ہے۔ کورونا کے کم ہوتے ہی ثقافتی طائفے بھی آنے جانے لگیں گے۔

تعلیم کے شعبے میں بھی تعاون شروع ہو چکا ہے۔ روڈ اور ریلوے لائن کی تعمیر بھی زیر غور ہے۔ترکی اور ایران بھی قریب آنے والے ہیں۔ چین کی ایران میں ساڑھے چار سو بلین ڈالر کی انویسٹمنٹ اس خطہ کی صورتحال کو تبدیل کرنے والی ہے۔

چین بھی اس نئے پلیٹ فارم میں شامل ہے۔ چین نے گزشتہ دنوں پاکستان کی بہت زیادہ فوجی امداد کی ہے اور خاص طور پر پاکستان نیوی کو مضبوط تر بنانے کیلئے پاکستان کو بہت کچھ دیا ہے۔ انڈین میڈیا پر اس سلسلے میں بھی چیخیں سنائی دے رہی ہیں۔

پاکستان اپنی فوجی قوت میں روز بروز اضافہ کرتا جارہا ہے۔ کل تک پاکستان دنیا کی پندرہویں فوجی قوت تھا مگر آج دنیا کی دسویں بڑی فوجی قوت ہے۔ اس کے لئے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ساتھ عمران خان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں ۔