بھارت میں بنائی گئی کورونا ویکسین موت بانٹنے لگی؟

(آئی این این نیوز)

بھارت کی ریاست تلنگانہ میں کورونا ویکسین لگوانے والا ہیلتھ ورکر اگلے ہی دن دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا۔

بھارت میں کورونا ویکسینیشن کا سلسلہ جاری ہے اور مقامی کمپنی کی تیار کردہ ویکسین لگائی جارہی ہے جبکہ یہ دنیا کی سب سے بڑی ویکسینیشن ڈرائیو مانی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق پہلے مرحلے میں ہیلتھ ورکرز کو کورونا ویکسین دی جارہی ہے اور بھارتی ریاست تلنگانہ کے ضلع نرمل میں 42 سالہ ایمبولینس ڈرائیور وٹھل کو منگل 19 جنوری کو کنٹالہ ہیلتھ سینٹر میں کورونا کی پہلی ڈوز دی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیلتھ ورکر کو بدھ کی رات سینے میں درد کی شکایت ہوئی اور اسے ضلعی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ صبح ساڑھے 5 بجے انتقال کرگیا۔

بعدازاں ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ اینڈ فیملی ویلیفیئر دفتر نے وضاحتی بیان میں کہا کہ ہیلتھ ورکر کو گزشتہ روز ویکسین کی پہلی ڈوز دی گئی اور اس کی موت وجہ ویکسین نہیں دل کا دورہ پڑنا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیلتھ ورکر کی موت کی وجہ کورونا ویکسین نہیں ہے جبکہ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں بھی موت کی وجہ دل کا دورہ پڑنا بتائی گئی ہے۔

ویکسین لگوانے کے بعد مرنے والے ہیلتھ ورکرز کی تعداد 3 ہوگئی

دوسری جانب کورونا ویکسین لگوانے کے بعد انتقال کرجانے والے ہیلتھ ورکر کی تعداد 3 ہوگئی ہے۔

اس سے قبل بھارتی ریاست اتر پردیش میں 52 سالہ وارڈ بوائے جبکہ کرناٹکا میں 43 سالہ ہیلتھ ورکرز کی ویکسین لگوانے کے بعد موت ہوچکی ہے۔

تاہم بھارتی وزارت صحت نے کورونا ویکسین سے اموات کی خبروں کی تردید کی ہے۔

اُدھر بھارت میں دنیا کی سب سے بڑی کورونا ویکسین مہم کے دوران بلائے گئے ایک تہائی لوگ ویکسین لگوانے ہی نہیں آئے۔