آپ اپنے تفتیشی افسران کی ٹریننگ نہیں کرتے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نیب ڈائریکٹر پر برہم

(آئی این این نیوز)

اسلام آباد ہائی کورٹ میں  پیپلزپارٹی کی رہنما رخسانہ بنگش کی  آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں عبوری ضمانت پر سماعت ہوئی، اس موقع پر  عدالتی حکم پر ڈائریکٹر قومی احتساب بیورو (نیب) عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس عامر فاروق نے ڈائریکٹر نیب پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کال اپ نوٹس سے متعلق تفتیشی افسروں کو سپریم کورٹ کے فیصلے پڑھائیں، آپ اپنے تفتیشی افسران کی ٹریننگ نہیں کرتے؟ تفتیشی افسرکو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ اس نے عدالت میں کیا اور کیسے بات کرنی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کیا آپ اب ایسے سوالات کریں گے کہ آپ کو کونسا رنگ پسند ہے؟ آپ لوگ تفتیشی افسر کو کام سکھائیں، یہ وائٹ کالرکرائم ہیں،قتل کے مقدمات نہیں جو ٹارچرکریں تو کچھ مل جائے گا، جب رخسانہ بنگش کے بیٹے نے نیب کو جواب دے دیا تو پھر مشکوک کیا رہ گیا ؟

ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نیب سردار مظفر نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر سے غلطی ہوئی ہے، وہ معذرت چاہتے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ  میڈیا ٹرائل نہیں ہونا چاہیے، ہر ایک کی عزت ہوتی ہے، جب ملزمان کو بلایا جاتا ہے تو کیا نیب خود ہی پریس ریلیز جاری کردیتا ہے۔