ریاستِ مدینہ اور کوفہ کا گورنر

(آئی این این نیوز)

عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور نے اپنے زمانے کے ایک معروف محدث شریک بن عبداللہؒ سے فرمائش کی کہ وہ کوفہ کے قاضی بن جائیں۔ شریک بن عبداللہؒ نے امام ابو حنیفہؒ کی طرح معذرت کر لی۔

منصور نے امام ابو حنیفہؒ کا انکار برداشت نہیں کیا تھا لیکن اُس نے شریک بن عبداللہؒ سے سختی کرنے کی بجائے اصرار کیا کہ حکومت کو ایسے منصفوں کی ضرورت ہے جو اسلامی شریعت کے تقاضوں کے مطابق لوگوں کو جلد از جلد انصاف فراہم کر سکیں۔

خلیفہ منصور کے اصرار پر شریک بن عبداللہؒ نے قاضی کا عہدہ قبول کر لیا۔ خلیفہ منصور کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا محمد مہدی مسند خلافت پر بیٹھا تو اُس نے بھی شریک بن عبداللہؒ کا عہدہ برقرار رکھا۔

ایک دفعہ شریک بن عبداللہؒ کی عدالت میں ایک عورت پیش ہوئی اور کوفہ کے گورنر موسیٰ بن عیسیٰ پر الزام لگایا کہ اُس نے میرے کھجوروں کے باغ کو مجھ سے زبردستی خریدنا چاہا جب میں نے انکار کر دیا تو اُس نے میرے باغ کی دیواریں گرا دیں تاکہ میں مجبور ہو کر اپنا باغ اُسے بیچ دوں۔ معاملہ کچھ یوں تھا کہ اس عورت کے باپ کا دریائے فرات کے کنارے کھجوروں کا ایک باغ تھا۔ باپ کے انتقال پر یہ باغ بہن بھائیوں میں تقسیم ہوا تو اس عورت نے اپنے حصے کے اردگرد دیوار بنا لی۔

گورنر موسیٰ نے اس عورت کے بھائیوں سے یہ باغ خرید لیا لیکن یہ عورت اپنا حصہ گورنر کو فروخت کرنے سے انکاری تھی۔ وہ گورنر کی زور زبردستی سے نجات کے لئے قاضی شریک بن عبداللہؒ کو اپنی فریاد سنا چکی تو قاضی نے گورنر موسیٰ کو اپنی عدالت میں طلب کر لیا۔

قاضی کا پیامبر طلبی کا حکم نامہ لے کر گورنر کے پاس پہنچا تو گورنر غصے میں آگ بگولہ ہو گیا۔ اُس نے اپنے ایک محافظ سے کہا کہ قاضی صاحب کے پاس جاؤ اور اُنہیں کہو کہ میرے منصب کا لحاظ کریں اور مجھے ایک جھوٹی عورت کے ساتھ کھڑا نہ کریں۔

محافظ گورنر صاحب کا پیغام لے کر قاضی شریک بن عبداللہؒ کے پاس پہنچا تو قاضی نے اُس کی گرفتاری کا حکم دے کر اُسے جیل میں بند کر دیا۔ جب گورنر کو پتہ چلا کہ اُس کا محافظ گرفتار کر لیا گیا ہے تو وہ مزید غصے میں آ گیا۔ اُس نے ایک بڑے افسر کو قاضی کے پاس بھیجا۔

اس افسر نے قاضی سے کہا کہ ہمارا محافظ تو گورنر صاحب کا صرف ایک پیغام لے کر آیا تھا آپ نے اُسے گرفتار کیوں کرا دیا؟ قاضی نے کہا تم ایک ناجائز کام لے کر میرے پاس آئے ہو اور شریعت کے تقاضوں کی خلاف ورزی کر رہے ہو۔ قاضی نے اس افسر کو بھی گرفتار کرا دیا۔ جب گورنر کو پتہ چلا کہ اُس کا بھیجا گیا دوسرا پیامبر بھی گرفتار ہو گیا تو وہ زخمی سانپ کی طرح تڑپنے لگا۔

اُس نے کوفہ کے کچھ معززین کو بلایا اور کہا کہ آپ قاضی صاحب کے پاس جائیں اور اُنہیں کہیں کہ آپ نے میری توہین کی ہے۔ میرے منصب کا کوئی خیال نہیں کیا میں عام شہری نہیں ہوں کہ عدالتوں میں حاضری دیتا پھروں یہ معززین گورنر کا پیغام لے کر قاضی صاحب کے پاس آئے تو قاضی شریک بن عبداللہؒ نے ان حضرات سے کہا کہ ’’تم لوگ فتنہ ہو۔ حق کی راہ میں مزاحم اور قوانینِ شریعت کے نفاذ میں رکاوٹ بن رہے ہو۔

تمہاری سزا قید ہو سکتی ہے‘‘۔ قاضی نے ان معززینِ شہر کو بھی گرفتار کرا دیا۔ ان معززین کی گرفتاری کا پتہ چلنے پر گورنر آپے سے باہر ہو گیا۔ وہ خلیفہ مہدی کا چچا بھی تھا۔ طاقت کے نشے میں چور تھا۔ وہ اپنا گھڑ سوار دستہ لے کر جیل پہنچا اور اُن سب کو رہا کرا لیا جن کو قاضی نے گرفتار کرایا تھا۔

اگلے دن کوتوال نے قاضی کو اطلاع دی کہ کل رات گورنر صاحب اپنے تمام پیامبروں کو جیل سے نکال کر لے گئے۔ قاضی صاحب نے عدالت برخاست کی اور کہا کہ میں نے یہ منصب امیر المومنین سے نہیں مانگا تھا اُنہوں نے اس شرط پر یہ عہدہ میرے سپرد کیا تھا کہ وہ یا اُن کا کوئی اہلکار عدالت کے کام میں مداخلت نہیں کرے گا۔

شریک بن عبداللہؒ قاضی کے عہدے سے استعفیٰ دے کر گھر روانہ ہو گئے اور بغداد کے سفر کی تیاری شروع کر دی تاکہ امیر المومنین کو استعفے کی وجہ بتا سکیں۔ گورنر موسیٰ کو پتہ چلا کہ قاضی صاحب استعفیٰ دے کر بغداد جا رہے ہیں تو حواس باختہ ہو گیا۔

فوراً قاضی صاحب کے پاس پہنچا اور معافیاں مانگنے لگا۔ قاضی نے کہا کہ جن لوگوں کو تم نے جیل سے نکالا ہے اُنہیں واپس جیل میں بند کرو۔ گورنر نے اپنے تمام ساتھیوں کو جیل میں بند کر دیا۔ پھر گورنر عدالت میں پیش ہوا۔ اُسے فریادی عورت کے سامنے کھڑا کیا گیا۔

گورنر نے تسلیم کیا کہ عورت سچ کہتی ہے۔ قاضی نے حکم دیا کہ اس عورت کے باغ کی دیواریں دوبارہ تعمیر کروائیں ۔ گورنر نے حکم کی تعمیل کی اور یوں یہ واقعہ اسلامی عدل و انصاف کی ایک روشن مثال بن گیا۔

قاضی شریک بن عبداللہؒ نےانصاف کی فراہمی کے لئے طاقتور کے سامنے ڈٹ جانے کا فیصلہ اس لئے کیا کہ ﷲ کے آخری نبی حضرت محمدؐ نے جو ریاستِ مدینہ قائم کی تھی اُس کی بنیاد بھی عدل و انصاف تھی۔

ایک دفعہ خاندانِ قریش کی ایک عورت نے چوری کی۔ کچھ لوگ قریش کی عزت کے لئے اس عورت کو سزا سے بچانا چاہتے تھے۔ حضرت اُسامہ بن زیدؓ اس عورت کی سفارش لے کر نبی کریم ؐ کے پاس حاضر ہوئے اور اس عورت کے لئے معافی کی درخواست کی۔

آپ ؐ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل اس لئے تباہ ہوئے کہ وہ غرباء پر حد جاری کرتے تھے اور امراء سے درگزر کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا بخدا اگر فاطمہ بنت محمد ؐ بھی چوری کرتیں تو میں اُن پر بھی حد جاری کر دیتا۔ آپ ؐ نے اُس عورت کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔

اسلام میں انصاف کسی کا عہدہ، رنگ، نسل یا مذہب دیکھ کر نہیں کیا جاتا۔ قیوم نظامی اپنی کتاب معاملاتِ رسولؐ میں ابوبکر حصاص کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک مسلمان نے کسی کی زرہ چوری کر لی۔ جب اندیشہ ہوا کہ یہ چوری کھل جائے گی تو اُس نے یہ زرہ ایک یہودی کے گھر پھینک دی۔ یہ زرہ یہودی کے گھر سے برآمد ہو گئی لیکن یہودی نے چوری سے انکار کیا۔

اصلی چور نے یہودی کو پھنسانے کے لئے بہت سے مسلمان اپنے ساتھ ملا لئے۔ اس موقع پر ﷲ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے یہودی کو بے گناہ قرار دیا۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ انصاف قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ حکم بھی ریاستِ مدینہ میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے حقوق کے تحفظ کا ضامن بنا۔

یہی وہ حکم تھا جو شریک بن عبداللہؒ سمیت کئی قاضیوں کے تاریخی فیصلوں کی بنیاد بنا لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج جو لوگ ریاستِ مدینہ قائم کرنے کے دعوے کرتے ہیں، اُن کے قول و فعل میں آپ کو شریک بن عبداللہ کے کردار کی جھلک نظر آتی ہے یا کوفہ کے گورنر موسیٰ کے کردار کی جھلک نظر آتی ہے؟

اپنے اردگرد نظریں دوڑایئے۔ کیا نچلی عدالتوں سے اعلیٰ عدالتوں تک کسی مظلوم عورت کو منصفوں تک براہِ راست رسائی حاصل ہے؟ وکیل کی فیس ادا کئے بغیر انصاف کا حصول بہت مشکل ہے۔

نیب سے لیکر الیکشن کمیشن آف پاکستان تک کہیں بھی فوری انصاف نہیں ملتا۔ نیب کو شروع دن سے سیاسی مخالفین کو سبق سکھانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے اور اس ادارے کی ’’پولیٹکل انجینئرنگ‘‘ کی گواہی تو سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان بھی دے چکے۔ رہی سہی کسر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پوری کر دی ہے۔

الیکشن کمیشن میں 2014ء سے تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس زیر التوا ہے۔ ریاست مدینہ کی علمبردار تحریک انصاف کو چاہئے تھا کہ وہ اس کیس کو لٹکانے اور کیس کی کارروائی کو خفیہ رکھنے کی درخواستیں کرنے کی بجائے الیکشن کمیشن سے کہتی کہ کیس کا فیصلہ جلد از جلد کیا جائے لیکن اس کیس کو چھ سال تک لٹکا کر الیکشن کمیشن نے اپنے آپ کو تو تماشہ بنا ہی دیا لیکن پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانے کا دعویٰ کرنے والوں کو کوفہ کے گورنر موسیٰ کے ساتھ کھڑا بھی کر دیا۔