چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو اچھی گورننس کے ساتھ بورڈ کو چلا رہے ہیں: وسیم خان

(آئی این این نیوز)

لاہور: ‏پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا کہنا ہے کہ چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو اچھی گورننس کے ساتھ بورڈ کو چلا رہے ہیں۔

 لاہور میں گفتگو کرتے ہو ئے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہا کہ 14 برس بعد جنوبی افریقا کا پاکستان میں کھیلنا ایک جذباتی لمحہ ہے،  میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور فینز کے لیے یہ تاریخی اور یادگار لمحات ہیں جاس کو سراہا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ  بڑی ٹیموں کا پاکستان آکر کھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کرکٹ کو دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے، پاکستان کرکٹ کو دنیا کے کونے کونے میں لے کر جا رہے ہیں، پہلے ڈومیسٹک کرکٹ کو براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا، اس کے بعد پاکستان کی انٹر نیشنل کرکٹ کے لیے انفرادی طور پر براڈ کاسٹرز ملے، دنیا بھر میں اس کا ٹیلی کاسٹ ہونا بھی اس بات کا ثبوت ہےکہ پاکستان کرکٹ مقبول ہے اور دنیا میں لوگ اسے دیکھنا چاہٹے ہیں۔

‏ وسیم خان کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ سیزن مکمل کرنے والا پاکستان دنیا کا واحد بورڈ ہے، کووڈ کی وجہ سے حالات مشکل تھے اور مالی طور پر صورتحال بھی سب کے سامنے ہے،  ایسے میں کرکٹ کرانے پر تعریف بھی ہونی چاہیے جب کہ اسپانسرز کا رسپانس شاندار ہے، 6 ایسوسی ایشنز کے اگلے ماہ فروری کے وسط تک اسپانسرز مکمل ہو جائیں گے اور اس حوالے سے سب کو آگاہ کیا جائے گا، پاکستان کرکٹ ٹیم کے اسپانسرز بھی مل رہے ہیں اور اس کے سب نے بڑی محنت سے کام کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تنقید کا سلسلہ چلتا رہتا ہے لیکن چیف ایگزیکٹو اور چیئرمین بھی اپنا کام کررہے ہیں، ہم اپنی کوشش میں اچھی گورننس کے ساتھ کام کر رہے ہیں لیکن کام اپنی جگہ ہیں جو جاری رہیں گے لیکن ٹیم کی کارکردگی کی وجہ سے مایوسی ہونا فطری بات ہے، فینز ٹیم کے نتائج دیکھنا چاہتے ہیں لیکن جب نتائج نہیں ملتے تو پھر تنقید بھی ہوتی ہے، تنقید ہر بورڈ پر ہوتی ہے اس کا کوئی ایشو نہیں ہے۔

‏ وسیم خان نے تسلیم کیا کہ ڈومیسٹک کرکٹ سیزن اور پاکستان میں انٹر نیشنل سیریز کے حوالے سے تو کام ہوا ہے لیکن ایسوسی ایشنز کی عبوری کمیٹیوں کی تشکیل میں تاخیر ہو ئی ہے، اس میں تھورا وقت لگ گیا ہے لیکن کچھ چیزیں کنٹرول میں نہیں ہوتیں، دو سے تین ہفتوں میں ایسوسی ایشنز کی کمیٹیوں کا اعلان کر دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کلب کرکٹ کی شروعات بھی نہیں ہو سکیں لیکن اس کی وجہ بھی ایسوسی ایشنز کی کمیٹیوں کی تشکیل کو نہ ہونا ہے، کلب کرکٹ ہو رہی ہے لیکن یہ باضابطہ نہیں ہے، اب کلب کرکٹ کی سرگرمیاں باقاعدہ شروع کر رہے ہیں اور اس کے لیے رجسٹریشن بھی کر رہے ہیں۔

 پاکستان سپر لیگ کے معاملات کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کے بارے میں وسیم خان نے کہا کہ بورڈ اور پی ایس ایل نے ایک ساتھ چلنا ہے، چھوٹے موٹے مسائل کو حل کر لیا ہے، فرنچائزز نے سرمایہ کاری کی ہے اور پاکستان کرکٹ میں آئندہ بھی کریں گے، مسائل ہر جگہ ہوتے ہیں ہم نے کہا تھا کہ ہم مسائل حل کر لیں گے جو کہ کر لیے ہیں، فیس جمع کرا دی گئی ہے، 20 فروری کو لیگ شروع ہو رہی ہے۔

‏وسیم خان نے اپنے مستقبل کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے ابھی دو بڑے کام کرنے ہیں اس لیے توجہ انہی دو کاموں پر ہے،   ان میں ایک فیوچر ٹور پروگرام ہے اور دوسرا آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی کے لیے درخواستیں جمع کرانا ہے، اکتوبر نومبر تک آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی کی درخواستیں دے دیں گے، ان میں آئی سی سی کے 7،8 ایونٹس شامل ہیں۔