ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 23 ہزار 906 ہوگئی

جان لیوا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 564 ہوگئی، 6 ہزار 464 مریض صحت یاب ہوچکے

 اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 23 ہزار 906 ہوگئی جب کہ 564 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا وائرس کے 12 ہزار 196 ٹیسٹ کیے گئے جب کہ 1523 افراد میں اس کی تصدیق ہوئی۔ اس طرح ملک بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی مجموعی تعداد 23 ہزار 906 ہوگئی۔ کورونا وائرس کے 6 ہزار 464 مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9077 ہے، سندھ میں 8640، خیبرپختونخوا میں 3712، بلوچستان میں 1495، گلگت بلتستان میں 388، اسلام آباد میں 521 اور آزاد کشمیر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 76 ہوگئی ہے۔

اموات

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 38 مریض زندگی کی بازی ہار گئے ہیں جس کے بعد اس وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 564 ہوگئی ہے۔

خیبرپختونخوا میں کورونا سے سب سے زیادہ 203 اموات ہوئی ہیں۔ سندھ میں 157، پنجاب میں 175، بلوچستان 22، اسلام آباد میں 4 اور گلگت بلتستان میں کورونا سے 3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جب کہ ملک بھر میں کورونا کے 143 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر:

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔