نامور موسیقار شوکت علی ناشاد کو مداحوں سے بچھڑے 40 برس بیت گئے

مسحور کن دھنوں کے خالق اور نامور موسیقار شوکت علی ناشاد کی آج 40ویں برسی منائی جا رہی ہے۔

1923کو دہلی میں پیدا ہونے والے ناشاد کا اصل نام شوکت علی دہلوی تھا، انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم ماسٹر غلام حسین اور موسیقار نوشاد علی سے حاصل کی۔

انہوں نے 1947 سے 1962 تک 30 بھارتی فلموں میں موسیقی دی، بحیثیت موسیقار ان کی پہلی فلم ٹوٹے تارے تھی، بھارتی فلم بارہ دری میں ان کی ترتیب دی ہوئی موسیقی کے تمام ہی نغمے سپر ہٹ ہوئے۔

ناشاد 1964 میں بھارت سے پاکستان منتقل ہوئے اور اپنی خوبصورت موسیقی کے باعث امر ہونے والے اس معروف موسیقار نے یہاں بھی کامیابیوں کے خوب جھنڈے گاڑے۔

انہوں نے دلدار، رام بھروسے، سالگرہ، بہارو پھول برساؤ، دیدار، نیا رستہ، زینت، پالکی، ملن، سمیت درجنوں فلموں میں اشعار کو اس خوبصورتی سے سر وں میں ڈھالا کہ وہ شاہکار گیت بن گئے۔

موسیقی کی دنیا کا یہ چمکتا ستارہ 14 جنوری 1981 کو غروب ہوا لیکن ان کا نام ان کے بے مثال کام کی بدولت آج بھی روشن ہے۔