حیدرآباد میں یونیورسٹی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کو

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں بالآخر یونیورسٹی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کو ہے، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کی تعمیر سے شہریوں کو شہر کے اندر ہی اعلیٰ تعلیم کی سہولت میسر آ سکے گی۔

شہر حیدرآباد میں پبلک سیکٹر کی یونیورسٹی شہر کے باسیوں خصوصا طلباء کا وہ خواب رہا ہے جو ایک طویل عرصہ سے سیاست کی نذر ہوتا رہا۔

 لیکن سال 2021 کے آغاز پر حیدرآباد کے پرفضا مقام گنجو ٹکر کی پہاڑیوں کے وسط میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے باقاعدہ قیام کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کا انعقاد ہوا جس میں شریک طلباء وشہریوں کی خوشی دیدنی تھی۔

سنگ بنیاد کی تقریب ہر پہلو سے بہت ہی منفرد تھی، جس میں کسی کے افتتاح یا نام کی تختی کے بجائے زمین میں قلم پیوست کر کے روشنائی سے آبیاری کی گئی۔

سنگ بنیاد کی تقریب  میں تقریب کے ہر فرد نے حصہ لیا جس کے بعد قومی ترانہ کی دھن پر پرچم کشائی کی گئی۔

تقریب کے میزبان و نمل کے پروجیکٹ ڈائریکٹر بریگیڈیئر عامر زاہد خان کا کہنا تھا کہ اس یونیورسٹی کے قیام کے بعد یہاں بیک وقت 8 سے 10 ہزار طلباء و طالبات اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں گے۔

دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ نمل یونیورسٹی کے قیام سے نوجوانوں کو اعلٰی تعلیم کے مواقع میسر ہوں گے۔