امریکی فوجی راز افشا کرنے والے جولین اسانج کی امریکا حوالگی کی درخواست مسترد

(آئی این این نیوز)

برطانوی عدالت نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو امریکا حوالے کرنے کی امریکی درخواست مسترد کردی۔

وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کی امریکاحوالگی پربرطانوی عدالت نےفیصلہ سنادیا۔ جولین اسانج پر 10برس پہلےخفیہ امریکی فوجی دستاویزات شائع کرنے کا الزام ہے اور امریکا نے جولیان اسانج کی حوالگی کیلئے برطانوی عدالت میں درخواست کر رکھی تھی۔

لندن کی اولڈبیلی کی عدالت نےجولین اسانج کی حوالگی کیلئے امریکی درخواست پر فیصلہ سنایا، اس موقع پر جولین اسانج کی حمایت میں پئیر کوربن کے علاوہ حمایت کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

جولین اسانج پر مجموعی طورپر 18 الزامات عائد کیے گئے تھے، جولین اسانج پر کمپیوٹر ہیک کرنے اور دفاعی معلومات افشا کرنے کا بھی الزام تھا۔

جولین اسانج کوانتہائی سیکیورٹی والی جیل ایچ ایم پی بیلمارش میں رکھاگیاہے۔

جولین اسانج نے 2010 میں وکی لیکس کے ذریعے امریکی فوج کی5 ہزار خفیہ فائلز آن لائن جاری کی تھیں جن میں افغانستان اورعراق میں امریکی فوج کی کارروائیوں سے متعلق تفصیل موجود تھی۔

جولین اسانج کو اگر امریکا کے حوالے کردیا گیا تو وہاں انھیں 175 سال تک کی سزا ہوسکتی ہے۔