خیبرپختونخوا: وزراء اور مشیروں کی تنخواہوں و مراعات سے متعلق بل منظور

(آئی این این نیوز)

پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی نے صوبائی وزراء، مشیر اور معاونین خصوصی کی تنخواہوں و مراعات اور استحقاق سے متعلق ترمیمی بل 2021 منظورکر لیا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی نے صوبائی وزراء، مشیر اور معاونین خصوصی کی تنخواہوں، مراعات اور استحقاق سے متعلق ترمیمی بل 2021 منظورکیا جس کی آزاد رکن اسمبلی میر کلام وزیر نے بل کی مخالفت کی۔

بل کے تحت کابینہ ممبران کے سرکاری گھروں کے یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی کا طریقہ کار تبدیل ہوگا اور وزراء کے سرکاری رہائش گاہوں کے یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی محکمہ ایڈمنسٹریشن کے ذریعے ہوگی۔

اس سے قبل بلوں کی ادائیگی کے لیے صوبائی وزراء، مشیر اور معاونین جیب سے یوٹیلٹی بلز ادا کرکے بعد میں کلیم کرتے تھے۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نگہت اورکزئی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے 2 لاکھ روپے تنخواہ میں گزارا نہ ہونے کا کہا تھا، صدر پاکستان 10 لاکھ،گورنر 8 لاکھ روپے تنخواہ لیتے ہیں، وزراء کو میڈیکل سمیت دیگر مراعات ملتی ہیں جب کہ اراکین اسمبلی کو نہیں ملتی۔

اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا کہ ایم پی ایز کو ملنے والی تنخواہیں ممبران کے ساتھ مذاق ہے، ایم پی ایز کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے پنجاب کی طرز پر کمیٹی تشکیل دی جائے، اگر وزراء کو کفایت شعاری کا شوق ہے تو تنخواہیں اور مراعات واپس کر دیں۔

کامران بنگش نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ترمیم کے تحت وزراء کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جارہی ہیں۔